نظم برسات اور پھسلن کی تشریح بیان کیجئے۔

18 Answers

  1. برسات کا جہان میں لشکر پھسل پڑا
    بادل بھی ہر طرف سے ہوا پر پھسل پڑا
    جھڑیوں کا مینہ بھی آکے سراسر پھسل پڑا
    چھتا کسی کا شور مچا کر پھسل پڑا
    کوٹھا جھکا، اٹاری گری، در پھسل پڑا

    • 0
  2. یہ بند "نظیر اکبر آبادی” کی نظم ” برسات اور پھسلن” سے لیا گیا ہے۔اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جیسے ہی برسات کی آمد ہوئی پوری دنیا میں برسات کا ہی بول بالا دکھائی دیا۔ہوا سے ہر جانب سے بادل کھینچے چلے آنے لگے۔برسات اور بادلوں کی وجہ سے جھڑیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ برسات کی جھڑیوں کی وجہ سے کسی کے چھت گرنے کا شور بلند ہوا۔کسی کا کو ٹھا جھکا تو کسی کے کمرہ گراجبکہ بارش کی وجہ سے کسی کا تو دروازہ ہی گر پڑا۔

    • 0
  3. جھڑیوں نے اس طرح کا دیا آکے جھڑ لگا
    سنیے جدھر، ادھر کو دھڑاکے کی ہے صدا
    کوئی پکارے ہے مرا دروازہ گر چلا
    کوئی کہے ہے ہاۓ! کہوں تم سے اب میں کیا
    تم در کو جھینکتے ہو مرا گھر پھسل پڑا

    • 0
  4. اس بند میں شاعر برسات کے موسم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ برسات کی جھڑیوں نے ایسا جھڑ لگایا کہ جدھر سنو ادھر ہی دھڑاکے کی صدائیں سنائی دیتی تھیں۔کسی نہ کسی کا کچھ نہ کچھ دھڑ سے گر رہا تھا۔کوئی یہ پکار رہا تھا کہ ہائے میرا دروازہ گر گیا۔جبکہ کسی کی یہ پکار سنائی دی کہ ہائے اب میں کیا کروں گا۔ جن کے دروازے گر رہے تھے ان کی صدائیں سن کر وہ پکار اٹھے جن کے برسات کی وجہ سے گھر گر رہے تھے کہ تم ایک دروازے کو روتے ہو میرا تو گھر ہی گر پڑا ہے۔

    • 0
  5. چکنی کی زمیں پہ یاں تئیں کیچڑ ہے بے شمار
    کیسا ہی ہوشیار پہ پھسلے ہے ایک بار
    نوکر کا بس کچھ اس میں، نہ آقا کا اختیار
    کو چے گلی میں ہم نے تو دیکھا ہے کتنی بار
    آقا جو ڈگمگائے،تو نوکر پھسل پڑا

    • 0
  6. اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ برسات کا موسم اپنے ساتھ پھسلن اور کیچڑ کو لے آتا ہے اس لیے جہاں زمین چکنی تھی وہاں بے شمار کیچڑ تھا۔اس کیچڑ سے لوگ دھڑا دھڑ پھسل کر گر رہے تھے۔ اس کیچڑ نے کسی آقا یا نوکر کی تمیز بھی نہ کی بلکہ جو آتا وہی پھسل کر گر پڑتا تھا۔شاعر کہتا ہے کہ گلی کوچوں میں ایسے نظارے کئی بار دیکھنے ہو ملے کہ جیسے ہی کوئی آقا ڈگمگاتا خود کو گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا تو برابر میں موجود نوکر دھڑام سے پھسل کر گر پڑتا۔

    • 0
  7. کوچے میں کوئی اور کوئی بازار میں گرا
    کوئی گلی میں گر کے ہے کیچڑ میں لوٹتا
    رستے کے بیچ پاؤں کسی کا رپٹ گیا
    اس سب جگہ کے گرنے سے آیا جو بچ بچا
    وہ اپنے گھر کے صحن میں آکر پھسل پڑا

    • 0
  8. اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس برسات کی پھسلن کی وجہ سے کوئی گلی کوچے میں ہی اور کوئی بیچ بازار میں پھسل کر گر پڑا۔سب لوگ کیچڑ میں لوٹ رہے تھے۔ کسی کا پاؤں بیچ رستے میں پھسلا تو کسی نے اگر گلی،بازار وغیرہ میں خود کو پھسلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر کے صحن میں آ کر پھسل کر گر پڑا۔ یعنی برسات ہو اور پھسلن نہ ہو یہ ایک ناممکن سی بات ہے۔

    • 0
  9. برسات کا لشکر پھسل پڑنے سے مراد برسات کی آمد ہے جس کی وجہ سے ہر جانب جل تھل اور پھسلن کا راج ہو گیا۔

    • 0
  10. دوسرے بند میں شاعر نے جھڑی لگنے کے کیا اثرات بیان کیے ہیں؟

    • 0
  11. شاعر کہتا ہے کہ جھڑیوں کے باعث ہر جانب صدائیں بلند ہونے لگی کہ کسی کا چھت کسی کا کمرہ کسی کا دروازہ تو کسی کا پورا کا پورا گھر ان برسات کی جھڑیوں کی نظر ہو گیا۔

    • 0
  12. برسات کی پھسلن سے گلی اور کو چوں کا منظر کیسا ہو گیا ہے؟

    • 0
  13. برسات کی پھسلن کی وجہ سے گلی کوچوں میں چکنی زمین پر بے شمار کیچڑ جمع ہو گیا۔جس کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ پھسل کر گرنے لگے۔

    • 0
  14. اس نظم میں کن کن چیزوں سے پھسلنے کا ذکر کیا گیا ہے؟

    • 0
  15. اس نظم میں گلی،کوچوں میں کیچڑ سے پھسلنے کا ذکر ہوا ہے۔

    • 0
  16. آخری بند میں بازار میں گرنے،بیچ سڑک کے کیچڑ سے پھسلنے اور صحن میں پھسلنے کا ذکر ہوا ہے۔

    • 0

Leave an answer

You must login to add an answer.