نظم پھل پھول کی تشریح لکھیے۔

32 Answers

  1. وه کھلے پھول بیلے کے لا جواب
    پھولے ہزاروں طرح کے گلاب ره

    • 0
  2. یہ شعر بے نظیر وارثی کی نظم ” پھل پھول” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر باغ کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر جانب خوبصورت اور لاجواب بیلے کے پھول کھلے ہوئے تھے۔راستے میں ہزار رنگوں کے گلاب اپنا جلوہ دکھا رہے تھے۔

    • 0
  3. وہ پھولی چنبیلی،کھلا موگرا
    کھلی چاندنی باغ میں جا بہ جا

    • 0
  4. شاعر کہتا ہے کہ صرف گلاب ہی نہیں بلکہ چنبیلی ، موگرے کے پھول بھی کھلے ہوئے تھے اور اپنی بہار دکھا رہے تھے۔جب کے باغ میں چاندنی کے نظارے اس قدر دلفریب تھے کہ سارا باغ چاندنی میں نہایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔

    • 0
  5. وہ پھولی نواڑی، کھلی کاسنی
    وہ لالہ کھلا ، وہ کھلی کامنی

    • 0
  6. اس شعر میں شاعر نواڑی اور کاسنی کے پھولوں کا ذکر کرتا ہے جو اپنی نرالی چھب دکھلا رہے تھے۔ جب کہ لالہ اور کامنی کے پھولوں کا نظارہ بھی نہایت دلکش و خوبصورت تھا۔

    • 0
  7. یہ فطرت کا ہے قدرتی انتظام
    کھلے پھول لاکھوں طرح کے تمام

    • 0
  8. اس شعر میں شاعر کہتا ہے یہ خوبصورت ںظارے اور ان خوبصورت اور طرح طرح کے پھولوں کا کھلنا کسی انسان کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کا کمال اور قدرتی نظارے ہیں جو اتنے بے شمار پھول موجود ہیں اور دنیا کو رنگین و خوبصورت بناتے ہیں۔

    • 0
  9. گریں پھولوں پر شہد کی مکھیاں
    وہ چھتوں سے جھکنے لگیں ٹہنیاں

    • 0
  10. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پھولوں کے کھلنے سے دلفریب مناظر تو دکھائی ہی دیتے ہیں ساتھ ہی ان پھولوں پہ شہد کی مکھیوں کا ایک ہجوم موجود ہوتا ہے۔ یہ مکھیاں شہد کے کیے پھولوں سے رس اکھٹا کرتی ہیں۔ انھوں نے درختوں پر چھتے بنا رکھے ہیں۔ جبکہ ان کا وزن اس قدر ہے کہ درختوں کی ٹہنیاں بھی ان کے وزن سے جھکنے لگتی ہیں۔

    • 0
  11. وہ انگور وہ رس بھری لیچیاں
    لٹکتی ہیں آموں کی وہ کیریاں

    • 0
  12. اس شعر میں شاعر قدرت کے کرشموں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کئی طرح کے پھل درختوں کی ڈالیوں سے جھانک رہے تھے جن میں انگور، رس بھری لیچیاں موجود ہیں اور درختوں سے آموں کی کیریاں لٹکی ہوئی ہیں۔یہ پھل نہ صرف قدرت کی عظمت کو بیان کرتے ہیں بلکہ بہت خوبصورت بھی دکھائی دیتے ہیں۔

    • 0
  13. اناروں میں کلیاں بھی لو آگئیں
    وہ کیلوں کی پھلیاں بھی گدرا گئیں

    • 0
  14. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے اناروں میں کلیاں آگئیں اور کیلوں کی پھلیاں بھی ادھ کچی ادھ پکی اپنی جھلک دکھلا رہی تھیں۔

    • 0
  15. بہی سیب، امرود پکنے لگے
    وہ شاخوں میں گولے چمکنے لگے

    • 0
  16. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ناشپاتی ، سیب اور امرود بھی پک گئے اوروہ پک کر اس قدر خوبصورت دکھائی دے رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے درختوں کی شاخوں پر پکے پھل موجود نہ ہوں بلکہ شا خوں سے پکے ہوئے گولے چمک رہے ہوں۔

    • 0
  17. وہ پک کر شریفے بھی سب کھل گئے
    ٹپک پڑتے ہیں جو ذرا ہل گئے

    • 0
  18. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شریفے کے پھل بھی پک کر کھل گئے اور وہ اس قدر پک چکے تھے کے اگر ذرا سے بھی ہلتے تو ٹپک پڑتے تھے۔

    • 0
  19. لدی ہیں درختوں میں نارنگیاں
    جھکی پڑتی ہیں بوجھ سے ڈالیاں

    • 0
  20. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ درختوں پر نارنگیاں لدی ہوئی اور بڑی خوبصورتی کو مزید نکھار رہی تھیں۔ ان نارنگیوں کے بوجھ کی وجہ درختوں کی ڈالیاں جھک گئی تھیں۔

    • 0
  21. ہیں اس شان قدرت پہ ہر دم نثار
    دکھائی ہمیں جس نے کیا کیا بہار

    • 0
  22. اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پھولوں اور پھلوں کے ان خوبصورت اور دلکش نظاروں پر قدرت کے ان شان دار نظاروں پر انسان بار بار نثار نظر آتا ہے۔ کہ یہ قدرت کا ہی کرشمہ ہے جس نے ہمیں بار بار بہار کے خوبصورت نظارے دکھائے ہیں۔

    • 0
  23. نظم میں جن پھولوں کا ذکر ہوا وہ یہ ہیں بیلا، چنبیلی ، موگرا ، نواڑی ، کاسنی ، لالہ ، کامنی۔

    • 0
  24. This answer was edited.

    شاعر نے فطرت کے کس قدرتی انتظام کی طرف اشارہ کیا ہے؟

    • 0
  25. شاعر نےطرح طرح کے خوبصورت اور رنگ برنگےپھولوں کے کھلنے کو قدرت کا فطری نظام کہا ہے۔

    • 0
  26. نظم میں آنے والے پھلوں کے نام یہ ہیں، انگور، لیچیاں، آم ، کیریاں، انار ، کیلا ، سیب ، امرود ، نارنگی وغیرہ۔

    • 0
  27. درختوں پر جب ناشپاتی، سیب اور امرود کے پھل پک کر چمکتے ہیں تو ان کی چمک کو شاعر نے گولوں کے چمکنے سے تشبیہ دی ہے۔

    • 0
  28. قدرت ہمیں بہار کے خوبصورت اور دلفریب مناظر دکھاتی ہے جس کی وجہ سے ہم اس کی شان پر نثار ہوتے ہیں۔

    • 0

Leave an answer

You must login to add an answer.