Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. سناؤں تمھیں بات اک رات کی کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں پڑی ایک بچے کی ان پر نظر پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر چمک دار کیڑا جو بھایا اسے تو ٹوپی میں چھٹ پٹ چھپایا اسے وہ چھم چھم چمکتا ادھر سے ادھر پھرا، کوئی رستہ نہ پایا مگر تو غم گین قیدی نے کی التRead more

    سناؤں تمھیں بات اک رات کی
    کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی
    چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں
    ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں
    پڑی ایک بچے کی ان پر نظر
    پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر
    چمک دار کیڑا جو بھایا اسے
    تو ٹوپی میں چھٹ پٹ چھپایا اسے
    وہ چھم چھم چمکتا ادھر سے ادھر
    پھرا، کوئی رستہ نہ پایا مگر
    تو غم گین قیدی نے کی التجا
    کہ چھوٹے شکاری مجھے کر رہا

    See less
    • 0
Sajid
  1. برسات کا جہان میں لشکر پھسل پڑا بادل بھی ہر طرف سے ہوا پر پھسل پڑا جھڑیوں کا مینہ بھی آکے سراسر پھسل پڑا چھتا کسی کا شور مچا کر پھسل پڑا کوٹھا جھکا، اٹاری گری، در پھسل پڑا

    برسات کا جہان میں لشکر پھسل پڑا
    بادل بھی ہر طرف سے ہوا پر پھسل پڑا
    جھڑیوں کا مینہ بھی آکے سراسر پھسل پڑا
    چھتا کسی کا شور مچا کر پھسل پڑا
    کوٹھا جھکا، اٹاری گری، در پھسل پڑا

    See less
    • 0
Sajid
  1. سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

    سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
    ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

    See less
    • 0
Sajid
  1. یہ شعر حامد اللّٰہ افسر میرٹھی کی نظم " بہار کے دن" سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کا زمانہ آیا۔بہار چونکہ خوبصورتی کا موسم ہو تا ہے جس کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف پھوک کھل جاتے ہیں۔ اس لیے شاعر نے اسے باغوں کے نکھار یعنی باغوں کے حسن کا دوبالا ہو جانے کا زمانہ کہا ہے۔

    یہ شعر حامد اللّٰہ افسر میرٹھی کی نظم ” بہار کے دن” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کا زمانہ آیا۔بہار چونکہ خوبصورتی کا موسم ہو تا ہے جس کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف پھوک کھل جاتے ہیں۔ اس لیے شاعر نے اسے باغوں کے نکھار یعنی باغوں کے حسن کا دوبالا ہو جانے کا زمانہ کہا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. یہ شعر کبیر داس کا دوہا ہے۔ شاعر کبیر داس اس شعر میں انسان کے اندر بڑے بن سے آنے والے رویے کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان میں بڑا پن اگر غرور و تکبر کو جا پہنچے تو اس کا وہ بڑا پن ایسے ہی ہے جیسے کہ کھجور کا پیڑ ہوتا ہے۔جس کے نہ تو پتے کسی کو سایہ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا پھل باآسانی رسائی میRead more

    یہ شعر کبیر داس کا دوہا ہے۔ شاعر کبیر داس اس شعر میں انسان کے اندر بڑے بن سے آنے والے رویے کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان میں بڑا پن اگر غرور و تکبر کو جا پہنچے تو اس کا وہ بڑا پن ایسے ہی ہے جیسے کہ کھجور کا پیڑ ہوتا ہے۔جس کے نہ تو پتے کسی کو سایہ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا پھل باآسانی رسائی میں ہوتا ہے بلکہ وہ بہت اوپر اونچائی پہ جا لگتا ہے۔اسی طرح اس انسان کی بڑائی بھی کسی کام کی نہیں جو دوسروں کو فائدہ نہ پہنچا سکے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. یہ شعر حامد حسن قادری کی نظم "چھٹی کا دن" سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر بچوں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پیارے بچوں آج چھٹی کا دن ہے اور آج کا دن تمھارے آرام یعنی پڑھائی سے فراغت کا دن ہے۔اس لیے چھٹی کے دن تم خوب سارے کھیل کھیلوں اور اس دن کو خوب سارا لطف اٹھاؤ۔

    یہ شعر حامد حسن قادری کی نظم "چھٹی کا دن” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر بچوں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پیارے بچوں آج چھٹی کا دن ہے اور آج کا دن تمھارے آرام یعنی پڑھائی سے فراغت کا دن ہے۔اس لیے چھٹی کے دن تم خوب سارے کھیل کھیلوں اور اس دن کو خوب سارا لطف اٹھاؤ۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. نظم جاوید کے نام کی تشریح یہ انتہائی بلیغ نظم اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے ہاتھ کا پہلا لکھا ہوا خط پڑھنے کے بعد لکھی تھی۔ چناچہ اس میں اول سے آخر تک شفقت کا رنگ نظر آتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اپنے فرزند میں کیا کیا خوبیاں دیکھنا چاھتے تھے۔ بظاھر اس نظم میں انہوں نے اپنے فRead more

    نظم جاوید کے نام کی تشریح

    یہ انتہائی بلیغ نظم اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے ہاتھ کا پہلا لکھا ہوا خط پڑھنے کے بعد لکھی تھی۔ چناچہ اس میں اول سے آخر تک شفقت کا رنگ نظر آتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اپنے فرزند میں کیا کیا خوبیاں دیکھنا چاھتے تھے۔

    بظاھر اس نظم میں انہوں نے اپنے فرزند کو مخاطب کیا ہے لیکن باطن میں اس کا اطلاق تمام فرزندان ملت پر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ میری نظر میں حضرت علامہ اقبال ملت کے باپ تھے۔ انہوں نے پوری زندگی مسلمانوں کی خدمات میں بسر کی۔ وہ ساری عمر ملت کے غم میں تڑپتے رہے اور اسی تڑپ کا نتیجہ تھا کہ جس شخص کو ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا اس کے اندر بھی وہی رنگ پیدا ہوگی۔ آئیے اس نظم کی تشریح پڑھتے ہیں۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. یہ اشعر اسماعیل میرٹھی کی نظم "ایک پودا اور گھاس" سے لیا گیا ہے۔ اس نظم میں گھاس اور پودے کے درمیان ڈرامائی انداز میں تقابل پیش کیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک روز اتفاقا ایک پودا اور گھاس ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔وہ دونوں ایک باغ میں اور قریب قریب موجود تھے۔

    یہ اشعر اسماعیل میرٹھی کی نظم "ایک پودا اور گھاس” سے لیا گیا ہے۔ اس نظم میں گھاس اور پودے کے درمیان ڈرامائی انداز میں تقابل پیش کیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک روز اتفاقا ایک پودا اور گھاس ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔وہ دونوں ایک باغ میں اور قریب قریب موجود تھے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. یہ اشعار سورج نرائن مہر کی نظم" بہادر بنو" سے لیے گئے ہیں۔اس نظم میں شاعر نے بہادری کا درس دیتے ہوئے اپنے معمولات پر کاربند رہنے کا درس دیا ہے۔ یہ نظم مخمس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ تم ہر گز کوئی برا کام نہ کرو اور نہ ہی کوئی بری بات اپنے منھ سے نکالو۔ تمھیں حق اور سچ کے سیدRead more

    یہ اشعار سورج نرائن مہر کی نظم” بہادر بنو” سے لیے گئے ہیں۔اس نظم میں شاعر نے بہادری کا درس دیتے ہوئے اپنے معمولات پر کاربند رہنے کا درس دیا ہے۔ یہ نظم مخمس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ تم ہر گز کوئی برا کام نہ کرو اور نہ ہی کوئی بری بات اپنے منھ سے نکالو۔ تمھیں حق اور سچ کے سیدھے رستے پر چلنا چاہیے۔ تم یہ وعدہ کرو کہ تم سچائی کے اس رستے پر قائم رہو گے۔پیارے لڑکے تمھیں بہادر بننا ہے۔

    See less
    • 0