Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. کلاسیکی ادب سے مراد وہ ادب ہے جسے عوامی استناد حاصل ہو جسے ہر دور میں یکساں مقبولیت ملے۔ سب سے پہلے مغربی ادب میں کلاسیکیت کی اصطلاح سامنے آئی۔ مغرب میں 1660ء سے 1800ء تک کے دور کو ’’نوکلاسیکیت‘‘ کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ’’کلاسیکیت‘‘ 17ویں اور 18ویں صدی میں فرانس میں زیادہ مروج ہوئی لیکن انگلینڈRead more

    کلاسیکی ادب سے مراد وہ ادب ہے جسے عوامی استناد حاصل ہو جسے ہر دور میں یکساں مقبولیت ملے۔
    سب سے پہلے مغربی ادب میں کلاسیکیت کی اصطلاح سامنے آئی۔ مغرب میں 1660ء سے 1800ء تک کے دور کو ’’نوکلاسیکیت‘‘ کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے۔

    ’’کلاسیکیت‘‘ 17ویں اور 18ویں صدی میں فرانس میں زیادہ مروج ہوئی لیکن انگلینڈ میں یہ زیادہ مستحکم شکل میں نظر آئی۔

    یہ اصطلاح 1920ء میں سامنے آئی۔ بڑے بڑے اور اہم انگریزی مصنفین جو کلاسیکیت کی وجہ سے مشہور ہوئے، ان میں بن جانسن، ڈرائیڈن، پوپ، ایڈیسن، ڈاکٹر جانسن، سوئفٹ، گولڈ سمتھ اور ایڈمنڈ برک کو ’’کلاسیکیت‘‘ کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے۔

    یہ ایک ادبی اصطلاح ہے جو 19ویں صدی میں رواج پاتی ہے۔ اٹلی میں 1818ء میں، جرمنی میں 1820ء میں، فرانس میں 1822ء، روس 1830ء اور خود انگلستان میں یہ اصطلاح سب سے پہلے 1831ء میں استعمال ہوئی۔

    کلاسیکی ادب کی تعریف عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ جس ادب میں سادگی و سلاست، توازن و تناسب، اعتدال، نفاست اور عظمت پائی جائے اسے کلاسیکی ادب کہا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی میں ڈراما، فکشن اور شاعری میں کلاسیکی عناصر کی تلاش شروع ہوئی۔

    کلاسیکیت کو ایک اچھی روایت سے مثال دی جاتی ہے۔ کلاسیکیت کے حامیوں کے خیال میں جن بڑے ادیبوں نے ادب کے عظیم نمونے پیش کیے، انہیں کی تقلید کرکے بڑا ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ریڈ کراس سوسائٹی سبق میں ہمیں روزمرہ زندگی میں اکثر نظر آنے والے لال نشان کے متعلق بتایا گیا ہے۔ یہ نشان ڈاکٹروں اور بالخصوص خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والے اداروں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ یوں ریڈ کراس سوسائٹی محض علاج ہی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا بھی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے قیام پر بات کی جائے تو سو ساRead more

    ریڈ کراس سوسائٹی سبق میں ہمیں روزمرہ زندگی میں اکثر نظر آنے والے لال نشان کے متعلق بتایا گیا ہے۔ یہ نشان ڈاکٹروں اور بالخصوص خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والے اداروں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ یوں ریڈ کراس سوسائٹی محض علاج ہی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا بھی ادارہ ہے۔

    اس ادارے کے قیام پر بات کی جائے تو سو سال قبل اٹلی کے شہر سلفرینو پر آسٹریا کی فوج قابض تھی۔فرانس نے جب آسٹریا کی فوج پر حملہ کیا تو اس خوں ریز لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔انہی دنوں فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک بنک کا عہدے دار ہنری ڈونان کو الجزائر میں اپنے کیمپوں میں پانی کا معقول بندوبست کرنا تھا جس کے لیے وہ نپولین سے ملنے سلفرینو گیا۔

    وہاں اس نے فرانس اور آسٹریا کی فوج کے لوگوں کو بڑی تعداد میں زخمی پایا۔یہاں ہزاروں سپاہیوں کو خاک و خون میں تڑپتا دیکھ کر ڈونان کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔وہ قریبی دیہات کے لوگوں کو انسانیت اور بھائی چارے کا واسطہ دے کر نا سپاہیوں کی مدد کی غرض سے لے آیا۔ بہت سے زخمی سپاہیوں کو گاؤں لے جا کر ان کا علاج کیا گیا۔یہاں بہت سے لوگوں اور خواتین نے اس کی اس کام میں مدد کی۔

    اس سب کے بعد اس کی بے چینی ختم نہ ہوئی اور جنگ بندی کے بعد بھی وہ باقاعدہ ایک ایسی تنظیم کے قیام کے بارے میں سوچنے لگا جو عالمی سطح پر زخمیوں کی مدد کرسکے۔اس واقعے نے اس کو ریڈ کراس سوسائٹی کے قیام کی جانب آمادہ کیا۔ 1861ء میں اس نے "سلفرینو کی یاد میں” نامی ایک پرچہ شائع کروا کر اس کی ہزاروں کاپیاں چھپا کر یوروپ میں تقسیم کیں اور جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے بھیانک نتائج کو منظر عام پر لایا۔

    جس سے یہاں کا باشعور طبقہ چونک پڑا۔اس نے ایسی سوسائٹی کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا جو منظم طور سے زخمی سپاہیوں کی مدد کر سکے۔ڈونان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک کمیٹی بنائی اور جنیوا میں اس کی کانفرنس بلائی۔ اس سلسلے میں ڈونان نے کئی خطوط لکھے اور کئی لوگوں کو اپنی سوسائٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔1863ء میں اس کانفرنس میں سترہ ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔پہلے جلسے میں اس سوسائٹی کے اغراض و مقاصد جبکہ دوسرے میں اس سوسائٹی کو عالمی قانون کی حیثیت دی گئی۔

    1864ء سے ریڈ کراس اسی سوسائٹی کی پہچان سے جانا جانے لگا۔یوں ریڈ کراس سوسائٹی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور اس کی کامیابی کیلے پیچھے بڑا ہاتھ ڈونان کا تھا۔رفتہ رفتہ اس سوسائٹی نے ڈونان کو نظر انداز کر دیا مگر پندرہ سال بعد اس کے سالانہ اجلاس میں ڈونان کو نوبل انعام دیا گیا۔ تب تک ڈونان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی اور یوں 1910ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔لیکن یہ سوسائٹی آج بھی انسانیت کی خدمت کرنا جیسے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا،انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا،قدرتی آفات مثلاً سیلاب، زلزلہ وغیرہ میں لوگوں کی مدد کرنا اور زخمیوں کے لیے خون کی فراہمی وغیرہ جیسے مقاصد کو بخوبی نبھا رہی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. وہ دکان دار تجارت کی غرض سے گھو ڑے پر سوار ہو کر جا رہا تھا۔ اس عادل آباد میں ایک بہت دولت مند تاجر تھا۔ یہ اپنی دھن میں آگے جا ہی رہا تھا۔ اس نے ان کے ایک دو وار تو خالی دیے۔ اس گھوڑے نے تمہاری جان بچائی اور تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟

    وہ دکان دار تجارت کی غرض سے گھو ڑے پر سوار ہو کر جا رہا تھا۔
    اس عادل آباد میں ایک بہت دولت مند تاجر تھا۔
    یہ اپنی دھن میں آگے جا ہی رہا تھا۔
    اس نے ان کے ایک دو وار تو خالی دیے۔
    اس گھوڑے نے تمہاری جان بچائی اور تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟

    See less
    • 0
Sajid
  1. اوس زمین پر مائع نمی ہے جو صبح کے وقت نظر آتی ہے۔ اوس سورج کے چمکنے کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔ بخارات کے گاڑھا ہونے سے اوس بنتی ہے۔ اوس پودوں پر بہت خوشنما محسوس ہوتی ہے۔ اوس تمام مخلوق کے لیے بہت صحت مند ہے۔

    • اوس زمین پر مائع نمی ہے جو صبح کے وقت نظر آتی ہے۔
      اوس سورج کے چمکنے کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔
      بخارات کے گاڑھا ہونے سے اوس بنتی ہے۔
      اوس پودوں پر بہت خوشنما محسوس ہوتی ہے۔
      اوس تمام مخلوق کے لیے بہت صحت مند ہے۔
    See less
    • 0
Sajid
  1. میں اتر آؤں گا تو تجھے دکھا دوں گا۔ بچے بھوک کے مارے چوں چوں کر کے مرجائیں گے۔ اماں جی سے کہہ دوں گی۔ میں اماں جی کو تمھاری شکایت لگاؤں گی۔ ہم کل سیر پر جائیں گے۔

    • میں اتر آؤں گا تو تجھے دکھا دوں گا۔
      بچے بھوک کے مارے چوں چوں کر کے مرجائیں گے۔
      اماں جی سے کہہ دوں گی۔
      میں اماں جی کو تمھاری شکایت لگاؤں گی۔
      ہم کل سیر پر جائیں گے۔
    See less
    • 0
Sajid
  1. قدیم وجدید۔ لکھنو کی معاشرت میں قدیم و جدید کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ رسم ورواج۔ ہندوستان اور پاکستان کے رسم و رواج میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ شوروغل۔ استاد کی غیر موجودگی میں بچے کمرہ جماعت میں شوروغل مچا رہے تھے۔ خرید و فروخت۔ دن کا آغاز ہوتے ہی بازار میں خرید وفروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ فلاح و بہRead more

    قدیم وجدید۔ لکھنو کی معاشرت میں قدیم و جدید کا امتزاج پایا جاتا ہے۔
    رسم ورواج۔ ہندوستان اور پاکستان کے رسم و رواج میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔
    شوروغل۔ استاد کی غیر موجودگی میں بچے کمرہ جماعت میں شوروغل مچا رہے تھے۔
    خرید و فروخت۔ دن کا آغاز ہوتے ہی بازار میں خرید وفروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    فلاح و بہبود۔ ہندوستان میں غریب عوام کی فلاح وبہبود کے ادارے سرگرم ہیں۔

    See less
    • 0