Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. کیا 786 ہندؤں کے بھگوان "ہری کرشنا" کے نام کے حروف کا مجموعہ ہیے؟ عام طور پر خطوط، دستاویزات اور تحریروں وغیرہ میں بسم اللہ کے بجائے "786" لکھ دیا جاتا ہیے، کہا یہ جاتا ہیے؛ کہ ان کاغذات کے زمین پر گرنے سے بسم اللہ کے پاکیزہ حروف کی بے ادبی ہوتی ہیے ، ان کو بے ادبی سے بچانے کیلئے "786" لکھ دیا جاتاRead more

    • کیا 786 ہندؤں کے بھگوان "ہری کرشنا” کے نام کے حروف کا مجموعہ ہیے؟

      عام طور پر خطوط، دستاویزات اور تحریروں وغیرہ میں بسم اللہ کے بجائے "786” لکھ دیا جاتا ہیے، کہا یہ جاتا ہیے؛ کہ ان کاغذات کے زمین پر گرنے سے بسم اللہ کے پاکیزہ حروف کی بے ادبی ہوتی ہیے ، ان کو بے ادبی سے بچانے کیلئے "786” لکھ دیا جاتا ہیے۔ جبکہ اسلامی تعلیم واضح طور پر یہ ہیے کہ ہر کام اللہ تعالٰی کے نام سے شروع کرنا چاہیے۔

      خط یا کسی بھی تحریر سے پہلے بطور "بسم اللہ” کے 786 لکھنا ایک گمراہ کن بات ہے کیونکہ 786 لکھ کر تحریر شروع کرنے کا یہ طریقہ ہم کو قرآن وسنت میں کہیں بھی نہیں ملتا ہے، کوئی بھی نیک کام شروع کرنے سے پہلے زبان سے "بسم الله الرحمن الرحیم” ادا کرنا یا لکھنا بہت ہی اچھا اور ثواب کا کام ہے، اللہ تعالی نے قرآن حکیم کو بھی "بسم الله الرحمن الرحیم” سے ہی شروع فرمایا ہے جو کام اللہ تعالٰی کے نام سے شروع نہ کیا جائے اس میں برکت نہیں ہوتی اور وہ پایہ تکمیل تک بھی نہیں پہنچتا۔

      یہ بات قابل غور ہے کہ کیا اس طرح اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے بجائے 786 لکھ دینا صحیح ہے؟ فرض کیجئے کسی کے نام کے اعداد کا مجموعہ 420 ہو اور کوئی اسے نام کے بجائے مسٹر 420 کہہ کر پکارے تو اس کا ردعمل کیا ہو گا؟

      اسی طرح اگر کسی کا نام انور ہے تو اس کو 257 صاحب کہہ کرنہیں بلایا جاتا، اگر کسی کو مولانا صاحب کی بجائے 128 صاحب کہہ کر بلایا جائے تو یقیناً وہ ناراض ہوجائیں گے، پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے، اسی لئے بسم اللہ کی بجائے 786 کا استعمال کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں ہے۔

      اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر 786 ہے کیا؟ جب ہم علم الاعداد پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں انتہائی خطرناک صورتِ حال نظر آتی ہے،آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 786 ہندؤں کے بھگوان "ہری کرشنا” کے نام کے حروف کا مجموعہ ہے، حروف ابجد کے حساب سے اسی کے یہ اعداد نکلتے ہیں، برصغیر پاک و ہند کے مسلمان سیکڑوں برس تک ہندؤں کے ساتھ اکٹھے رہے ہیں، وہ 786 استعمال کرتے ہونگے، اس کی تشریح انہوں نے مسلمانوں کے سامنے غلط انداز میں کی ہو گی اور انہوں نے اس کو صحیح سمجھ کر 786 کا استعمال شروع کر دیا۔

      بسم اللہ کے اعداد کا مجموعہ کسی بھی صورت میں 786 نہیں بنتا، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے 786 نہیں بلکہ 787 اعداد ہوتے ہیں اور ہرے کرشنا کے 786 اعداد بنتے ہیں۔تفصیلات حسبِ ذیل ہیں۔

      ب س م ا ل ل ہ (بسم اللہ)
      2+60+40+1+30+30+5 (168)
      ا ل ر ح م ا ن (الرحمٰن)
      1+30+200+8+40+1+50 (330)
      ا ل ر ح ی م (الرحیم)
      1+30+200+8+10+40 (289)
      787=168+330+289
      مجموعی نمبر787 ہوتا ہے جبکہ ”ہرے کرشنا” اور روی شنکرکا مجموعی نمبر786 ہوتا ہیے۔ تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
      ہ ر ی ک ر ش ن ا (ہرے کرشنا)
      5+200+10+20+200+300+50+1=786
      ر و ی ش ن ک ر (روی شنکر)
      200+6+10+300+50+20+200=786

      بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اعداد 786 ہی ہیں تو بھی بسم اللہ کیلئے اس طرح کے اعداد کا استعمال درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

      ذرا سوچیے! کیا قرآن کریم علم ہندسہ اور جیومیٹری کی کتاب ہیے؟ کیا اس کا نزول اسی لئے ہوا تھا کہ اسے اعداد میں تبدیل کیا جائے؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ یہ عمل کی کتاب ہے، اس لئے ان اعداد کے استعمال سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ بسم اللہ لکھ دیا جائے یا کاغذ پر کچھ بھی نہ لکھا جائے۔ زبان سے بسم اللہ پڑھ لینا کافی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب: جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی ہیں رکعتیں ہیں ۔خاتم المحققین علامه ابن عابدین شامی رحمہ علیہ فرماتے ہیں ( *وَهِيَ عِشْرُوْنِ رَکْعَةً هـُوَ قُـوْلُ الْـجَـمـْهُـوْرِ وَعَـلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ شَرْقًا وَغَرْبًا* " ترجمہ: تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی جمہور کا قول ہے اور مشرق ومغرب کے لوگRead more

    جواب: جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی ہیں رکعتیں ہیں ۔خاتم المحققین علامه ابن عابدین شامی رحمہ علیہ فرماتے ہیں ( *وَهِيَ عِشْرُوْنِ رَکْعَةً هـُوَ قُـوْلُ الْـجَـمـْهُـوْرِ وَعَـلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ شَرْقًا وَغَرْبًا* ” ترجمہ: تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی جمہور کا قول ہے اور مشرق ومغرب کے لوگوں کا اس پر عمل ہے۔
    (ردالـمـحـتـار عـلـى الـدر المختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاة التراويح، ج 2،ص 45،دارالفکر، بیروت)
    امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علہ فرماتے ہیں تراویح سنت مؤکدہ ہے محققین کے نزدیک سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہے خصوصاً جب ترک کی عادت بنالے، تراویح کی تعداد جمہور امت کے ہاں بیس ہی ہے ۔ ایک روایت کے مطابق امام مالک کے ہاں ان کی تعداد چھتیس ہے۔
    (فتاوی رضویه، ج7، ص 457،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

    اور یہی *مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم* کی سنت سے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان ، تابعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے اقوال وافعال سے ثابت ہے۔

    سرکار علیہ السّلام 20رکعت (تراویح) ادافرماتے

    جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی 20 رکعتیں ہیں اور یہی احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت سید نا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے:
    *اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلَّيْ فِيْ رَمَضَانَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَالوِتْر* يعنى *نبی کریم صلى الله تعالى عليه واله وسلم* رمضان المبارک میں 20 رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے (. مصنف ابن ابي شيبة، كتاب صلاة التطوع والامامة، ۲۸۷/۲، حدیث: ۱۳ دار الفکر بیروت)
    ۔ امیر المؤمنین حضرت سید نا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنے دور خلافت میں 20 تراویح کو رائج فرمایا صحابہ و تابعین اللہ مجتہدین اور ان حضرت شیخین رضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین کا 20 رکعت تراویح پر ہمیشہ عمل کرنا اور 20 سے کم پر راضی نہ ہونا اس حدیث کو تقویت کے اعلی مقام پر پہنچادیتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب: وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی ۔ تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کر لے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے. اور اگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے ۔ درمختار میں ہے’’ *وَوَقْتُهَا بَعْدَ صَلاَRead more

    جواب: وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی ۔ تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کر لے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے. اور اگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے ۔ درمختار میں ہے’’ *وَوَقْتُهَا بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ*) إلى الْفَجْرِ ( *قَبْلَ الْوِتْرِ وَبَعْدَهُ* ) *فِي الْأَصَحِّ، فَلَوْ فَاتَهُ بَعْضُهَا وَقَامَ الْإِمَامُ إِلَى الْوِتْرِ أَوْتَرَ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّى مَا فَاتَهُ* ‘‘ ترجمہ: اس کا وقت عشاء کے وقت سے فجر تک ہے ، چاہے وتر سے پہلے ہو یا بعد میں لہذا اگر اس کی بعض تراویح فوت ہو جائیں اور امام وتر کے لیے کھڑا ہو جائے تو امام کے ساتھ وتر پڑھے اور بعد میں فوت شدہ پڑھے۔ (الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ج2، ص43، دار الفکر بیروت )

    See less
    • 0
Sajid
  1. جواب*: تراویح مردوعورت سب کے لیے بالا جماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں ، اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم نے مداومت فرمائی ۔عمدة المتاخرین علامہ علاءالدین علی رحمہ اللہ علی فرماتے ہیں ( *اَلتَّرَاوِيْحُ سُنَّةُُ مُؤَكِّدَةُُ لِمُوَاظِبِةِ الْخُلَفَاءِ الرَاشِدِيْنَ*( (لِلرَّجَالِ وَالنِّRead more

    جواب*: تراویح مردوعورت سب کے لیے بالا جماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں ، اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم نے مداومت فرمائی ۔عمدة المتاخرین علامہ علاءالدین علی رحمہ اللہ علی فرماتے ہیں ( *اَلتَّرَاوِيْحُ سُنَّةُُ مُؤَكِّدَةُُ لِمُوَاظِبِةِ الْخُلَفَاءِ الرَاشِدِيْنَ*( (لِلرَّجَالِ وَالنِّسَاءِ) إجْمَاعًا ‘‘ ترجمہ: تراویح مردوعورت سب کے لیے بالا جماع سنت مؤکدہ ہے کیونکہ خلفائے راشدین نے اس پر ہمیشگی فرمائی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. حسن یوسف کی تلمیح حضرت یوسف علیہ السلام کے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے حسن کے واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب ان کے اس حسن کو دیکھ کر نہ صرف زلیخا ان پر دل ہار بیٹھی بلکہ کئی عورتوں نے بے ساختگی میں اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔

    حسن یوسف کی تلمیح حضرت یوسف علیہ السلام کے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے حسن کے واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب ان کے اس حسن کو دیکھ کر نہ صرف زلیخا ان پر دل ہار بیٹھی بلکہ کئی عورتوں نے بے ساختگی میں اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. نمرود کی خدائی بھی ایک تلمیح ہے۔ نمرود وہ انسان تھا جس نے اپنے وقت میں نہ صرف خدائی کا دعویٰ کیا بلکہ اس وقت کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ آگ میں ڈالنے کا حکم بھی صادر کیا تھا۔

    نمرود کی خدائی بھی ایک تلمیح ہے۔ نمرود وہ انسان تھا جس نے اپنے وقت میں نہ صرف خدائی کا دعویٰ کیا بلکہ اس وقت کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ آگ میں ڈالنے کا حکم بھی صادر کیا تھا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. اس تلمیح میں گنج قارون یعنی قارون کے خزانے کی طرف اشارہ ہے۔ قارون مصر کا بادشاہ تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا خزانہ اتنا زیادہ اور بڑا تھا کہ محض اس کے خزانوں کی چابیاں ہی کئی سو اونٹوں پرلادی جاتی تھیں۔

    اس تلمیح میں گنج قارون یعنی قارون کے خزانے کی طرف اشارہ ہے۔ قارون مصر کا بادشاہ تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا خزانہ اتنا زیادہ اور بڑا تھا کہ محض اس کے خزانوں کی چابیاں ہی کئی سو اونٹوں پرلادی جاتی تھیں۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ان دس نصیحتوں میں ایسی باتیں موجود ہیں جو قیامت تک آنے والی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہیں عالمہ نے اپنی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: پہلی بات: میری آنکھوں کی ٹھنڈک شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کی کوشش کرنا شوہر کے گھر جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جRead more

    ان دس نصیحتوں میں ایسی باتیں موجود ہیں جو قیامت تک آنے والی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہیں عالمہ نے اپنی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

    پہلی بات:

    میری آنکھوں کی ٹھنڈک شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کی کوشش کرنا شوہر کے گھر جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ اس مرغ پلاؤ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو۔

    دوسری بات:

    عالمہ نے یہ کہی کہ میری بیٹی اپنے شوہر کی بات کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اس کو اہمیت دینا اور ہر حال میں شوہر کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کرنا اس طرح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے۔

    تیسری بات:

    بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی زینت و جمال کا ایسا خیال رکھنا کہ جب وہ تجھے نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو اور سادگی کے ساتھ جتنی بھی استطاعت ہو خوشبو کا اہتمام ضرور کرنا اور یاد رکھنا کہ تیرے جسم و لباس کی کوئی بو یا کوئی بری ہیئت اس کے دل میں نفرت و کراہت نہ دلائے۔

    چوتھی بات:

    بتاتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بیٹی اپنے شوہر کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھوں کو سرمے اور کاجل سے حسن دینا کیونکہ پرکشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچا دیتی ہیں غسل اور وضو کا اہتمام کرنا کہ یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور لطافت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

    پانچویں بات:

    یہ بتائی کہ بیٹی شوہر کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا کیونکہ دیر تک برداشت کی جانے والی بھوک بھڑکتے ہوئے شعلے کی مانند ہو جاتی ہے اور شوہر کے آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ما حول بنانا کیونکہ نیند ادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔

    چھٹی بات:

    یہ کہی کہ بیٹی شوہر کے گھر اور ان کے مال کی نگرانی یعنی ان کی اجازت کے بغیر کوئی گھر میں نہ آئے اور ان کا مال لغویات نمائش و فیشن میں برباد نہ کرنا کیونکہ مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے اور اہل عیال کی بہتر حفاظت حسن تدبر سے ہوتی ہے۔

    ساتویں بات:

    بیٹی کو بتاتے ہوئے کہا کہ شوہر کی راز دار رہنا ان کی نافرمانی نہ کرنا کیونکہ ان جیسے بارعب شخص کی نافرمانی جلتی پر تیل کا کام کرے گی اور تم اگر اس کا راز دوسروں سے چھپا کر نہ رکھ سکی تو شوہر کا اعتماد تم پر سے ہٹ جائے گا اور پھر تم بھی اس کے دو رخے پن سے محفوظ نہیں رہ پاؤ گی۔

    آٹھویں بات:

    انہوں نے یہ کہی کہ میری بیٹی جب تمہارا شوہر کسی بات پر غمگین ہو تو اپنی کسی خوشی کا اظہار اس کے سامنے نہ کرنا یعنی اپنے شوہر کے غم میں شریک رہنا۔ شوہر کی کسی خوشی کے وقت غم کے اثرات چہرے پر نہ لانا اور نہ ہی شوہر سے ان کے کسی رویے کی شکایت کرنا اپنے شوہر کی خوشی میں خوش رہنا ورنہ تم ان کے قلب کے مکدر کرنے والی شمار ہو گی۔

    نویں بات:

    بتاتے ہوئے کہا کہ بیٹی اگر تم شوہر کی نگاہوں میں قابل احترام بننا چاہتی ہو تو اس کی عزت اور احترام کا خوب خیال رکھنا اور اس کی مرضی کے مطابق چلنا تو تم شوہر کو بھی زندگی کے ہر لمحے اپنا بہترین رفیق پاؤ گی۔

    دسویں بات:

    بتاتے ہوئے کہا کہ بیٹی میری اس نصیحت کو پلو سے باندھ لو اور اس پر گرہ لگا لو کہ جب تک تم ان کی خوشی اور مرضی کی خاطر کئی بار اپنا دل نہیں مارو گی اور اپنے شوہر کی بات رکھنے کے لیے تمہیں اپنی پسند و ناپسند اور دیگر کئی خواہشات کو دبانا ہوگا اگر تم ایسا نہیں کرو گی تو تمہاری زندگی میں خوشیوں کے پھول نہیں کھل سکیں گے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. تمام حروف تہجی کے اعداد ہیں ، جنھیں نکالنے کے عمل کو حسابِ ابجد یا حساب جُمَل ( عربی میں جُمَّل ) کہاجاتاہے ، مثلاً: پیارے آقا و مولا فداہ روحی وجسدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ پاک محمد ہے ، میم کے 40 عدد ، ح کے 8 ، میم کے 40 اور دال کے 4 عدد ہیں ، ان کامجموعہ 92 ہے - اسی طرح بسم اللہ الرحمن الرحیمRead more

    تمام حروف تہجی کے اعداد ہیں ، جنھیں نکالنے کے عمل کو حسابِ ابجد یا حساب جُمَل ( عربی میں جُمَّل ) کہاجاتاہے ، مثلاً: پیارے آقا و مولا فداہ روحی وجسدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ پاک محمد ہے ، میم کے 40 عدد ، ح کے 8 ، میم کے 40 اور دال کے 4 عدد ہیں ، ان کامجموعہ 92 ہے –

    اسی طرح بسم اللہ الرحمن الرحیم میں موجود حروف کے اعداد کو جمع کیاجائے تو مجموعہ 786 نکلتا ہے جوکہ بسم اللہ شریف کےعددہیں ؛ اِسے ہی حساب جُمَل کہاجاتاہے –

    ☀️ تمام حُروفِ تہجی کے اَعْداد یہ ہیں :
    الف 1، ب 2 ، ج 3 ، د4 ، ہ5 ، و6 ، ز 7 ، ح 8 ، ط9 ، ی10 ، ک20 ، ل30 ، م40 ، ن50 ، س60 ، ع70 ، ف80 ، ص90 ، ق 100 ، ر200 ، ش300 ، ت400 ، ث500 ، خ600 ، ذ700 ، ض800 ، ظ900 ، غ1000-
    اس ترتیب کو بہ آسانی یاد رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل آٹھ مہمل الفاظ بھی بنائے گئے ہیں :
    1: ابجد (اَبْ جَ دْ )
    2: ہوز (ہَ وَّ زْ )
    3: حُطّی (حُ طِّ ی ْ )
    4: کلمن ، (کَ لِ مَ نْ )
    5: سعفص ( سَ عْ فَ صْ)
    6: قرشت( قَ رْ شَ تْ )
    7: ثخذ( ثَ خَّ ذ ْ)
    8: ضظغ (ضَ ظَّ غْ )

    یہ اعداد عربی کے اٹھائیس حروف کے ہیں ، ان میں ہمزہ(ء) شامل نہیں کیوں کہ ہمزہ کا کوئی عددنہیں۔
    اِن اٹھائیس حُروف کے علاوہ فارسی اور اُردوکے جو اضافی حروف ہیں وہ اُن عربی حروف کے برابرہیں جن سے وہ بنائے گئے ہیں ، مثلاً فارسی حروف: پ ، چ ، ژ ، گ ، بالترتیب : ب ، ج ، ز ، ک کے برابر ہیں اور اُردو حروف : ٹ ، ڈ ، ڑبالترتیب :ت ، د ، ر کے برابر ہیں۔

    ☀️ ہمزہ کا عدد شمار نہیں کیاجاتالیکن جس حرفِ علت پر ہمزہ ہو اسے شمار کیاجاتا ہے ،مثلاً: آئینہ میں جو ی ہے اسے شمارکیاجائے گا ہمزہ کو نہیں –
    ☀️ مد کا کوئی عددنہیں ، مثلا: آم کے 41 عدد ہوں گے ایک الف مدہ کا اور چالیس میم کے ، بعض بزرگ مد والے حرف کو دوبار گنتے ہیں یہ درست نہیں –
    ☀️ کھڑےزبر کو اعدادمیں شمار نہیں کیاجاتا ، مثلاً : اسحٰق پر کھڑازبر ہے اِسے شمار نہیں کیاجائے گا مگر جب اسے اسحاق( الف کے ساتھ )لکھیں گے تو پھر الف شمارہو گا-
    اسی طرح کھڑے زیر ، الٹے پیش اورتنوین کا بھی کوئی عدد نہیں –
    اَعداد کواچھی طرح حفظ کرلیجیے تاکہ بہ وقت ضرورت کہیں سے دیکھنے نہ پڑیں –
    اِنھیں یادرکھنے کاایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ان کامجموعہ ، یہ آٹھ کلمے یاد کرلیں :
    أبجد هوز حطي كلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ
    اب یوں یاد رکھیں کہ ابجدکے الف کاایک عددہے ، اس کے بعدحطی کی ی تک ہرحرف پر ایک عددکااضافہ ہوتاجائے گا ، یعنی ابجدکے الف سے لے کر حطی کی ی تک دس حروف ہیں تو ان کے عدد 10تک جائیں گے ، پھر آگے کلمن کے کاف سے دس دس عدد کااضافہ کریں گے ، حتی کہ قرشت کے قاف تک سو عددبن جائیں گے ، پھر قرشت کی رے پر مزید سوکااضافہ کریں گے یعنی رے کے عدد200سے شروع کریں گے حتی کہ ضظغ کے غین تک 1000 پورے ہوجائیں گیں۔
    دعا گو ۔ حافظ زاہد محمود۔ عبدالقدوس قاسمی

    See less
    • 0