Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. شاہین نے بچوں کو بڑوں کو سلام نہ کرنے اور رامو کاکا سے ادب سے بات نہ کرنے پر ٹوکا۔

    شاہین نے بچوں کو بڑوں کو سلام نہ کرنے اور رامو کاکا سے ادب سے بات نہ کرنے پر ٹوکا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. اس سبق میں اخلاقیات پر بات چیت کو مکالمے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شاہین کے بھائی اس کے گھر کافی عرصے بعد اور اچانک آتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں۔بچے بھی ماموں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور بات کرنے لگتے ہی ہیں کہ ان کی ماں یعنی شاہین ان کو ڈانٹتی ہے کہ بنا سلام دعا کے ہی شروع ہو گئے ہو۔ شاہین اپنی اRead more

    اس سبق میں اخلاقیات پر بات چیت کو مکالمے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شاہین کے بھائی اس کے گھر کافی عرصے بعد اور اچانک آتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں۔بچے بھی ماموں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور بات کرنے لگتے ہی ہیں کہ ان کی ماں یعنی شاہین ان کو ڈانٹتی ہے کہ بنا سلام دعا کے ہی شروع ہو گئے ہو۔

    شاہین اپنی امی جان سے بھی ملتی ہے اور انھیں بتاتی ہے کہ وہ ان کو بہت یاد کرتی ہے۔ بچے بھی نانی اماں سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور نانی نے نواسے کے لیے بڑی عمر کی دعا کی اور ماں باپ کا کہا ماننے اور دل لگا کر پڑھنے کی نصحیت کی اور یہ کہا کہ تمھیں بھی بڑا ہو کر ماموں کی طرح ڈاکٹر بننا ہے۔اس جے بعد ملازم آ کر بچوں سے ملتا ہے تو بچے اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتے ہیں تو شاہین تب بھی بچوں کو ڈانٹتی ہے کہ بڑوں سے ادب سے پیش آؤ۔

    اس پر ان کا ملازم رامو کاکا رندھے ہوئے گلے کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ بچے ہی تو ان کا کل سرمایہ ہیں اس لیے انھیں کچھ مت بولو۔اسی دوران شاہین کا بڑا بھائی بھی اسے تنگ کرنے لگتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئی ہے دبلی دکھتی ہے اس کا شوہر اس کا خیال نہیں رکھتا وغیرہ۔ شاہین کے بھائی کی بات سن کر بوا بھی اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ واقعی بیمار دکھائی دے رہی ہے۔

    شاہین بوا کو کہتی کہ وہ اچھی بھلی ہے اور جوابا بوا سے ان کے بچوں کی خیریت دریافت کرتی ہے۔ جس پر بوا اپنی بیٹی کا دکھڑا سناتی تو شاہین اسے تسلی دیتی ہے۔کہ آپ اپنی بیٹی کو پاس بلا لیں کہ آپ اچھا خاصا کھاتی پیتی تو ہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور غم نہ کریں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ بہتر کرے گا۔یوں اس سبق میں بات چیت کے آداب اور بنیادی اخلاقیات کے ساتھ رشتوں کی خوبصورتی بھی جھلکتی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ریچھ دن بھر پڑا سوتا رہتا اور شام کے وقت اٹھ کر ستاروں کو چھیڑتا اور ان سے شرارتیں کیا کرتا تھا۔ وہ ننھے ستاروں کو قلابازیاں کھلاتا یا انھیں ان کی اصلی جگی سے ہٹا دیتا تھا۔

    ریچھ دن بھر پڑا سوتا رہتا اور شام کے وقت اٹھ کر ستاروں کو چھیڑتا اور ان سے شرارتیں کیا کرتا تھا۔ وہ ننھے ستاروں کو قلابازیاں کھلاتا یا انھیں ان کی اصلی جگی سے ہٹا دیتا تھا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. بنا سوچے سمجھے اور اپنی ضرورت سے زیادہ اور بلاوجہ خرچ کرنے کو فضول خرچی کہتے ہیں۔

    بنا سوچے سمجھے اور اپنی ضرورت سے زیادہ اور بلاوجہ خرچ کرنے کو فضول خرچی کہتے ہیں۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. عقل مند ہنس نے بیل دار پودے کو ختم کرنے کا مشورہ اس لیے دیا کہ وہ بیل جلد ان کے درخت پر چڑھ کر اس کو جکڑ لے گی اور پھر گھنی اور مضبوط ہو جائے گی۔جس کی وجہ سے کوئی بھی خکاری باآسانی اس درخت پر چڑھ کر انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    عقل مند ہنس نے بیل دار پودے کو ختم کرنے کا مشورہ اس لیے دیا کہ وہ بیل جلد ان کے درخت پر چڑھ کر اس کو جکڑ لے گی اور پھر گھنی اور مضبوط ہو جائے گی۔جس کی وجہ سے کوئی بھی خکاری باآسانی اس درخت پر چڑھ کر انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. دنیا میں وقت کی تلافی ممکن نہیں کیوں کہ جو گھڑی گزر گئی وہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آسکتی۔ کیوں کہ وقت ہوا سے بڑھ کر اڑنے والا،بجلی سے سوا بھاگنے والا اور دبے پاؤں نکل جاتا ہے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔

    دنیا میں وقت کی تلافی ممکن نہیں کیوں کہ جو گھڑی گزر گئی وہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آسکتی۔ کیوں کہ وقت ہوا سے بڑھ کر اڑنے والا،بجلی سے سوا بھاگنے والا اور دبے پاؤں نکل جاتا ہے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ملا نصرالدین کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سیر و سیاح کے رسیا تھے۔انھوں نے اپنے سست رفتار گدھے پر دنیا کا سفر کیا۔یہ اپنی حاضر جوابی،خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے مشہور رہے۔

    ملا نصرالدین کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سیر و سیاح کے رسیا تھے۔انھوں نے اپنے سست رفتار گدھے پر دنیا کا سفر کیا۔یہ اپنی حاضر جوابی،خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے مشہور رہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. انگریز حکومت سے پہلے گاؤں والوں کا انتظام گاؤں والوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔گاؤں کی حفاظت،کھیتی باڑی اور تعلیم کا بندوست گاؤں والے خود کیا کرتے تھے۔

    انگریز حکومت سے پہلے گاؤں والوں کا انتظام گاؤں والوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔گاؤں کی حفاظت،کھیتی باڑی اور تعلیم کا بندوست گاؤں والے خود کیا کرتے تھے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. گاؤں پنچایت ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت گاؤں کے معمالات گاؤں کے اندر ہی طے پا جاتے ہیں۔ اس کے لیے لوگوں کو اپنے معمالات کے لیے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے تھانے کچہریوں کے چکر نہیں لگانے پڑتے ہیں۔لین دین ، مار پیٹ جیسے جھگڑے بھی گاؤں میں ہی طے پا جاتے ہیں۔ان معاملات میں چونکہ گاؤں کے پنج وغیرہ بھی گRead more

    گاؤں پنچایت ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت گاؤں کے معمالات گاؤں کے اندر ہی طے پا جاتے ہیں۔ اس کے لیے لوگوں کو اپنے معمالات کے لیے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے تھانے کچہریوں کے چکر نہیں لگانے پڑتے ہیں۔لین دین ، مار پیٹ جیسے جھگڑے بھی گاؤں میں ہی طے پا جاتے ہیں۔ان معاملات میں چونکہ گاؤں کے پنج وغیرہ بھی گاؤں سے ہوتے ہیں اس لیے معمالات کی جانچ بھی اچھے سے طے پاتے ہیں۔ان معاملات کے لیے گاؤں میں ایک سبھا بنائی جاتی ہے۔گاؤں سبھا اپنے ممبروں میں سے پردھان اور گرام چناؤ کا انتخاب کرتی ہے۔اس انتظامیہ کمیٹی کا نام گاؤں پنچایت ہے۔جس کے پندرہ سے تیس ممبر ہوتے ہیں جن کا چناؤ پانچ سال کے لیے کیا جاتا ہے۔

    گاؤں پنچایت کے ممبر ہر سال اپنا’اپ پردھان’ چنتے ہیں۔گاؤں پنچایت کی بیٹھکوں کی صدارت گاؤں سبھا کا پردھان کرتا ہے۔پردھان اور اپ پردھان کے سوا اس سبھا کا سرکار کی طرف سے مقرر کردہ ایک سیکرٹری بھی ہوتا ہے۔اس سبھا کے ذمے گاؤں کے انتظامات کی نگرانی کرنا گاؤں میں سکول، ریڈنگ روم اور کتب خانے کھولنا اور علاج اور صفائی کے انتظام کرنا،دست کاری کو ترقی دینا، سڑکیں بنانا، میلے بازار لگانا،مویشوں کی دیکھ بھال اور دیگر تمام انتظامات اس کے ذمے ہوتے ہیں۔مختصر یہ کہ گاؤں سبھا کا یہ انتظام و انصرام گاؤں کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔

    See less
    • 0