Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. برسات کے موسم میں بارش کا لطف دیگر تمام موسموں کی بارشوں سے دو بالا ہوتا ہے۔آسمان ہر وقت گھنگھور گھٹاؤں سے اٹا رہتا ہے۔ کبھی بھی کسی بھی وقت جل تھل ہو جاتا ہے۔ پرندے بھی اس موسم میں مست دکھائی دیتے ہیں دوسری جانب سبزے کی بہاریں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ یہ تمام مناظر جہاں ایک جانب انسانی آنکھوں کو تازگیRead more

    برسات کے موسم میں بارش کا لطف دیگر تمام موسموں کی بارشوں سے دو بالا ہوتا ہے۔آسمان ہر وقت گھنگھور گھٹاؤں سے اٹا رہتا ہے۔ کبھی بھی کسی بھی وقت جل تھل ہو جاتا ہے۔ پرندے بھی اس موسم میں مست دکھائی دیتے ہیں دوسری جانب سبزے کی بہاریں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ یہ تمام مناظر جہاں ایک جانب انسانی آنکھوں کو تازگی بخشتے ہیں وہیں دوسری جانب برسات کی مناسبت سے نت نئے اور مزیدار پکوان بھی اس موسم کے لطف کو دوبالا کرتے ہیں۔ مگر اس موسم کا ایک اثر انسانی زندگی پر یہ بھی مرتب ہوتا ہے کہ ہر جانب مسلسل بارش کے باعث کیچڑ اور پھسلن کا راج ہو جاتا ہے۔دوسری طرف وہ مکان یا مکان کے وہ حصے جن کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو یا ان کی مرمت پر توجہ نہ دی جائے تو وہ وہ مسلسل بارش کی وجہ سے دھڑ سے نیچے آ گرتے ہیں۔یہ موسم اگرچہ رحمت تو ہوتا ہے مگر بسا اوقات زحمت بھی بن جاتا ہے کہ آدمی کبھی بھی کہیں بھی پھسلن کا شکار ہو کر اوندھے منھ زمین پہ آ رہتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1.     کل مورخہ ٢٨/٠٩/٢٠٢١ء بروز منگل جموں کشمیر کی مشہور و معروف علمی و ادبی شخصیت ،سابق آئی اے ایس افیسر جناب پرتپال سنگھ بیتاب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔بیتاب صاحب اپنی غزلیہ ونظمیہ شاعری کی بدولت ادبی دنیا میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔   میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی جو سوشلRead more

     

     

    کل مورخہ ٢٨/٠٩/٢٠٢١ء بروز منگل جموں کشمیر کی مشہور و معروف علمی و ادبی شخصیت ،سابق آئی اے ایس افیسر جناب پرتپال سنگھ بیتاب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔بیتاب صاحب اپنی غزلیہ ونظمیہ شاعری کی بدولت ادبی دنیا میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔

     

    میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی جو سوشل میڈیا کی رہین منت تھی ،ان کے نرم و نازک لہجے کی مٹھاس ابھی تک میرے کانوں میں رس گھول رہی ہے،ان کے انداز تکلم نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے ، تقریبا ایک گھنٹے کی مختصر مجلس میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ،ان کی گفتگو سے ان کی وسعت علمی ،کشادہ دلی اور معاصر ادبی منظر نامے پر ان کی گہری نظر کے واضح اشارے ملے۔

     

    بیتاب صاحب کی غزلوں اور نظموں کے متعدد مجموعے منظر عام پر آکر داد تحسین وصول کر چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں :موج ریگ ،فلک آثار،ایک جزیرہ بیچ سمندر ،نظم اکیسویں صدی ۔یہ وہ ہیں جو رخصتی کے وقت انھوں نے مجھے بھی عنایت کیے۔ علاوہ ازیں ان کی خودنوشت سوانح "میرے حصے کی دنیا "بھی میرے حصے میں آئ جس کا مطالعہ جموں کشمیر کی لگ بھگ پچاس ساٹھ سالہ تاریخ و تہذیب کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا ۔ان عنایات خسروانہ اور خرد نوازی پر بیتاب صاحب کا دل سے شکر گزار ہوں۔

     

    حافظ جاوید اقبال

    See less
    • 0
Sajid
  1. This answer was edited.

    تاریخ نے ہمیشہ اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کے حصول کے لیے کیا کیا نہیں کرتے۔ کرسی کے لئے کیا کیا نہیں کرتے اور پھر کرسی کے حصول کے بعد اس پر تا حیات برقرار رہنے کے لئے کیا کیا جائز و نا جائز حربے استعمال نہیں کرتے۔ اپنے اصول، اپنی شخصیت، اپنRead more

    تاریخ نے ہمیشہ اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کے حصول کے لیے کیا کیا نہیں کرتے۔ کرسی کے لئے کیا کیا نہیں کرتے اور پھر کرسی کے حصول کے بعد اس پر تا حیات برقرار رہنے کے لئے کیا کیا جائز و نا جائز حربے استعمال نہیں کرتے۔ اپنے اصول، اپنی شخصیت، اپنے کردار اور اپنی عزت وناموس تک کو داؤں پر لگادیتے ہیں۔ در اصل یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی عہدہ ومنصب کے اہل ہی نہیں ہوتے۔ کسی کرسی کا استحقاق رکھتے ہی نہیں۔ کرسی انہیں عزت دیتی ہے انہیں شرف بخشتی ہے لیکن حب وہ کرسی سے اترتے ہیں تو کیڑے مکوڑوں کی طرح بے نام ونشاں بن جاتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس ہر دور اور ہر سماج میں کچھ ایسے زندہ کردار رہے ہیں جنہوں نے اپنے اصولوں کے مقابلے میں کرسی کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ اپنے اصولوں کو کبھی کسی عہدے کی گھاٹ پر قربان نہیں کیا۔ اپنے علم، مقام ومرتبے، کردار اور شخصیت سے ہمیشہ اپنے عہدے کو نکو نام کیا۔ ڈاکٹر طه حسین بھی انہیں شخصیتوں میں سے ایک تھے۔ ان کے افکار ونظریات کی تائید وتردید سے قطع نظر مقصود یہ ہے کہ حکومت وقت نے ایک حکم نامہ صادر کرکے آرٹس فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر طه حسین سے کہا کہ وہ فلاں اور فلاں سیاسی شخصیات کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کی سفارش کردیں۔ طه حسین کی غیرت نے اس حکم نامے پر دستخط کے بجائے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کے عہدے کو بحال کردیا گیا۔ مشہور مصری ادیب احمد امین اور طه حسین کے دوست بھی انہیں میں سے ایک تھے جنہوں نے کرسی کو کبھی اپنی شان نہیں سمجھا۔ نہ اس سے چپکے رہنا اپنی شخصیت کا اعزاز سمجھا۔ انہوں نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ جب وہ آرٹس فیکلٹی کے ڈین تھے تو اس وقت کے وزیر تعلیم نے ان کی فیکلٹی میں کچھ ایسے تصرفات کیے جن میں ان کی رائے نہیں لی گئی۔ انہوں نے اس پر احتجاج کیا مگر لا حاصل۔ اس کے بعدانہی کی فیکلٹی کے کچھ اساتذہ کو ان کی اجازت کے بغیر اسکندریہ یونیورسٹی منتقل کیے جانے کا حکم نامہ صادر کر دیا گیا۔ وزیر تعلیم کے اس آمرانہ حکمنامے کے بعد انہوں نے اپنی ڈین شپ سے استعفیٰ دے دیا جسے قبول کرلیا گیا۔ استعفیٰ کے بعد ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا ”انا أکبر من العمید وأصغر من الاستاد“ یعنی میں ڈین سے درجہا بڑا ہوں مگر استاد کے مرتبے سے کہیں چھوٹا ہوں۔ یہ میرے بچپن کاواقعہ ہے لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اترپردیش میں الیکشن تھا۔ ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے نمائندے ہمارے گھر والد صاحب کے پاس تشریف لائے تاکہ ان کا ووٹ اور سپورٹ حاصل کرسکیں۔ اس امیدوار کے سسر یوپی کے وزیر اعلی تھے اور قوی امید تھی کہ ان کی پارٹی کے جیتنے کے بعد ایک بار پھر وہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ انھوں نے کہا مولانا آپ ہمیں سپورٹ کریں آپ کے دونوں بیٹوں حماد انجم اور سہیل انجم کو سرکاری نوکری دلا دی جائے گی۔آپ جانتے ہیں میرے سسر وزیر اعلیٰ ہیں۔ ابا نے کہا حماد انجم اور سہیل انجم کے رزق کا ذمے دار وہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔میں آپ کی پارٹی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ اور وہ صاحب خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور ہار بھی گئے۔اس واقعے کو تفصیل سے میں نے نقوش جاوداں میں ذکر کیا ہے۔ در اصل علم بے نیازی سکھاتا ہے۔آدمی جس قدر علم کے بحر زخار کی شناوری میں مہارت حاصل کرتا ہے اس کے سامنے سارے عہدہ ومنصب، دنیاوی جاہ وحشمت، مقام ومرتبے کوتاہ قد نظر آتے ہیں۔ تاریخ نے ایسے بے شمار علماء کی سرگزشتوں کو محفوظ رکھا ہے جنہوں نے کبھی بھی دنیاوی عہدہ ومراتب اور جاہ وحشم کو در خور اعتنا نہیں سمجھا اور وہ پوری تندہی کے ساتھ علم وادب کی خدمت میں مصروفِ عمل رہے۔ آج ایسے ہی علماء کا نام اور کام زندہ ہے۔باقی عہدہ ومنصب والے بے نام ونشان ہوکر رہ گئے۔ رہے نام اللہ کا!!!

    از تحریر : ڈاکٹر شمس کمال انجم ﴿صدر شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری﴾

    See less
    • 0
Husna Ansari
  1. This answer was edited.

    بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں🌺🌺 بہن کی محبت صبح صبح چائے کی دکان پہ میرا دوست میرے پاس بیٹھا مجھے سلام کیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے میرا ہاتھ پکڑا روتے ہوئے بولا فارس میں آج خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا ہوں میں حیران تھا اس کی کمر پہ تھپکی دی ارے ایسا کیا ہوا گیا شیر کو وہ مجھ سے نظریں نہ ملا رہا تھا پRead more

    بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں🌺🌺 بہن کی محبت صبح صبح چائے کی دکان پہ میرا دوست میرے پاس بیٹھا مجھے سلام کیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے میرا ہاتھ پکڑا روتے ہوئے بولا فارس میں آج خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا ہوں میں حیران تھا اس کی کمر پہ تھپکی دی ارے ایسا کیا ہوا گیا شیر کو وہ مجھ سے نظریں نہ ملا رہا تھا پھر زور زور سے رونے لگا سب لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے میں اس کو چپ کروایا ارے پاگل سب دیکھ رہے ہیں میرے سینے سے لگ گیا روتے ہوئے بولا فارس بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں میں سوچ میں گم ۔۔۔کیا ہو گیا تم کو ایسا کیوں بول۔رہے ہو کہنے لگا فارس پتا ہے بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی میں ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں فارس مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی کورنا کے دن ہیں فارس کام کاج ہے نہیں میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں بہت پریشان تھا میں قرض بھی لے لیا تھا لاکھ دو بھوک سر پہ تھی میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ کے اتنے میں بہن گھر آگئی میں غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس بیوی میرے پاس آئی کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس ک لیئے پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو میں مسکرایا نہیں تو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے تیرا بھائی شہر گیا ہوا تھا بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل۔آوں یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا اور جا اٹھ نائی کی دکان پہ جا داڑھی بڑھا رکھی ہے شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا پریشان نہ ہوا کر تیرے بھائی کو تنخواہ ملے گی تو آوں گئ پھر جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے اب بازار جاو اور داڑھی منڈوا کر آو وہ جلدی سے جانے لگی اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی فارس بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم۔بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے،🌷🌷🌷🌷🌷🌷 حسنی تبسم انصاری

    See less
    • 1
Husna Ansari
  1. 🌹🌹🌹عورت کون ہے؟؟؟🌹🌹 *مرد کی بیٹی* *اور* *مرد کی بہن* *اور* *مرد کی معلمہ* ..! ایک نوجوان نے کسی لڑکی کو تنگ کرنا چاہا,تو اس کی طرف ایک خاص پیغام بھیجا: *شائد ہم ایک دوسرے کو جانتے ہوں؟* تو اس پر اس لڑکی کا جواب تھا: *شائد کیوں* ؟ مجھے یقین ہے میرے بھائی تم کیسے نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟ یقینا اس لڑRead more

    🌹🌹🌹عورت کون ہے؟؟؟🌹🌹

    *مرد کی بیٹی*
    *اور*
    *مرد کی بہن*
    *اور*
    *مرد کی معلمہ* ..!

    ایک نوجوان نے کسی لڑکی کو تنگ کرنا چاہا,تو اس کی طرف ایک خاص پیغام بھیجا: *شائد ہم ایک دوسرے کو جانتے ہوں؟*
    تو اس پر اس لڑکی کا جواب تھا:
    *شائد کیوں* ؟
    مجھے یقین ہے میرے بھائی
    تم کیسے نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟

    یقینا اس لڑکی کا جواب بہت حیرت انگیز تھا۔۔۔
    اس نے اس سے کہا:
    🍃 میں حوا ہوں وہ جو تمہاری پسلی سے پیدا کی گئ تاکہ تم اسے اذیت نہ دو اور نہ ہی یہ بھولو کہ وہ تمہارا ایک ٹکڑا ہے۔
    🍃 میں وہ ہوں جسے اللہ نے تمہیں تحفہ دیا جب تم جنت میں اکیلے تھے تم ڈھونڈ رہے تھے کہ وہ کون ہو جو تمہاری وحشت سے تمہیں انس دے۔
    🍃 میں تمہاری ماں, تمہاری بہن, تمہاری بیٹی, تمہاری بیوی ہوں جو تمہارے گھر کی حفاظت کرتی ہے۔
    🍃 میں سورہ النسآء,المجادلہ,النور,الطلاق اور مریم ہوں۔
    🍃 میں وہ جنت ہوں جو میرے قدموں کے نیچے رکھ دی گئی جب میں تمہاری ماں بنتی ہوں۔

    🍃 میں وہ ہوں جسے اللہ نے تمہاری آدھی وراثت دی تو مجھے حقیر نہ سمجھنا بلکہ تم تو میرے سارے امور کے نگران بنائے گئے ہو۔
    🍃 میں وہ ہوں جس کے بارے میں الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی اور فرمایا
    (تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو)
    🍃 میں وہ ہوں جس کے بارے میں میرے رب نے فرمایا:
    ”کھاٶ اور پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو“
    🍃 میں وہ ہوں جو زیورات میں پالی جاتی ہے۔
    🍃 میں وہ ہوں جو نیک ہو تو وہ غیر صالح ہزار مردوں سے افضل ہے۔

    اگر تم تفریح کی تلاش میں ہو تو لہو ولعب کے صفحات کی طرف جاٶ۔۔۔
    بےشک میں اور میری جیسی تو “وسائل التواصل“ میں داخل ہیں
    اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل پھیلانے کے لیے
    اور ان لوگوں کا راستہ درست کرنے کے لیے جنہوں نے اپنا آپ شیطان کو بیچ ڈالا

    *تو اب تم بتاؤ تم کون ہو اے بھائی؟*
    نوجوان نے دو جملوں میں جواب دیا:
    ”میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہوں,
    اور مبارک ایسی ماں کے لیے جس نے تمہیں جنا
    اور اس باپ کے لیے جس نے تمہاری پرورش کی“

    اس پیغام کو اپنے بیٹوں کو بھیجو اور اپنی بیٹیوں کو، تاکہ وہ نیکی کرنے نیکی بتانے والے بنیں۔۔۔!!!

    بقلم حسنی تبسم انصاری 🌹🌹

    See less
    • 0
Husna Ansari
  1. "اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا۔۔۔ ماضی تو سنہرا تھا مگر حال کھو گیا۔۔۔ اقبال کاترانہ بانگِ درا ہے گویا۔۔۔ ہوتا ہے جادۀ پیما کارواں ہمارا۔۔۔   حسنی تبسم انصارہ 🌹🌹

    "اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا۔۔۔

    ماضی تو سنہرا تھا مگر حال کھو گیا۔۔۔

    اقبال کاترانہ بانگِ درا ہے گویا۔۔۔

    ہوتا ہے جادۀ پیما کارواں ہمارا۔۔۔

     

    حسنی تبسم انصارہ 🌹🌹

    See less
    • 0
Shahbaz Khalid
  1. جی ہاں۔ آپ اپنے لکھے ہوئے آرٹیکل یہاں خود شائع کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو ادب سے متعلق سوالات وجوابات بھی خود پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    جی ہاں۔

    آپ اپنے لکھے ہوئے آرٹیکل یہاں خود شائع کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو ادب سے متعلق سوالات وجوابات بھی خود پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    See less
    • 0
Husna Ansari
  1. ﷽ "اشرف الانبیاء جناب محمد مصطفٰیﷺکے حضور میں" "اے مدینہ کے تاجدار!  اے بیکسوں کے مددگار! اے دوعالم کے مختار!" "آپﷺ پر مجھ عاصی کی جانب سے درود و سلام"   آپﷺ نے دین متین کی اشاعت کے لیۓ اور ہم گنہگاروں کی اصلاح کے لیۓ اور ہماری نجات کے لیۓ جو جو تکالیف اور اذیتیں برداشت فرمایئ۔انہیں آپﷺ کی امتRead more

    "اشرف الانبیاء جناب محمد مصطفٰیﷺکے حضور میں”

    "اے مدینہ کے تاجدار!  اے بیکسوں کے مددگار! اے دوعالم کے مختار!”

    "آپﷺ پر مجھ عاصی کی جانب سے درود و سلام”

     

    آپﷺ نے دین متین کی اشاعت کے لیۓ اور ہم گنہگاروں کی اصلاح کے لیۓ اور ہماری نجات کے لیۓ جو جو تکالیف اور اذیتیں برداشت فرمایئ۔انہیں آپﷺ کی امت فراموش نہی کر سکتی۔حضورﷺ کے فضائل و مناقب کو بشر کی کیا مجال ہے؛جو بیاں کر سکیں۔

    "نعت احمد میں کروں کیا؛میرا رتبہ کیا ہے”

    "وصف خالق ہی جو فرماۓ تو بندہ کیا ہے”

     

    لیکن افسوس صد افسوس ہم نے آپﷺ کی تعلیمات کو دل سے بھلا دیا۔آپﷺ کے اخلاقِ حمیدہ کو دیکھ کر دشمن بھی دوست ہو جاتے تھے۔لیکن ہماری بد اخلاقی کا یہ حال ہیکہ دوستوں کو بھی دشمن بنا رہیں ہیں۔ آپﷺ کی خوش معاملگی نے آپﷺ کو "امین” کا لقب دلوایا۔لیکن ہماری بد معاملگی آج ہمیں اپنوں اور غیروں میں رسواء کر رہی ہے۔ہر برایئ سے ہم مانوس ہو چکیں ہیں۔ہر بھلایئ کو ہم نے ترک کر دیا ہے۔آپس میں ایک دوسرے سے نفرت کر رہیں خلوص اور محبت ہم میں مطلق باقی نہی رہا۔انہی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہم دنیا میں ذلیل اور رسواء ہو رہیں ہیں۔

     

    "آقا ﷺ جلد ہم گنہگاروں کی خبر لیجیئے”

     

    "فریاد ہے اے کشتئ امت کے نگہباں”

    "بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے”

     

    *🌹🌹حسنی تبسم انصاری مرادآباد*

     

     

    See less
    • 1
Sajid
  1. (١) ہمیں اس بات کا پتہ ہونا چاہیئے کہ اگر ہمارے گھر میں جب کبھی ایل۔ پی ۔جی ۔گیس سلنڈر کا دھماکا ہو جائے اور اس کی وجہ سے اگر ہمارے گھر میں کوئی نقصان ہو جائے ،یا اس حادثے میں کسی کی جان چلی جائے تو سرکار کی طرف سے ہم چالیس لاکھ روپیے لے سکتے ہیں ۔ (٢) ایک مرد افسر ایک عورت کو گرفتار نہیں کر سکتا۔ اRead more

    (١) ہمیں اس بات کا پتہ ہونا چاہیئے کہ اگر ہمارے گھر میں جب کبھی ایل۔ پی ۔جی ۔گیس سلنڈر کا دھماکا ہو جائے اور اس کی وجہ سے اگر ہمارے گھر میں کوئی نقصان ہو جائے ،یا اس حادثے میں کسی کی جان چلی جائے تو سرکار کی طرف سے ہم چالیس لاکھ روپیے لے سکتے ہیں ۔

    (٢) ایک مرد افسر ایک عورت کو گرفتار نہیں کر سکتا۔ ایک عورت افسر ہی ایک عورت کو گرفتار کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک عورت شام کے چھ بجے سے لے کر صبح کے چھ بجے کے دوران پولیس سٹیشن میں جانے سے انکار کرسکتی ہے۔اور کسی سنگین جرم کی صورت میں ہی مصنف کی اجازت سے مرد افسر کسی عورت کو گرفتار کر سکتا ہے ۔

    (٣) ہندوستان کے موٹر ویکل ایکٹ کے مطابق کوئی بھی ٹرافیک کے قانون بغیر موٹر پر چلنے والی گاڑیوں ، جیسے سائیکل اور رکشا پر لاگو نہیں ہوتے ۔

    (٤) اگر کسی دن آپکو کوئی ٹرافی قانون توڑنے پر چالان ہو جاتا ہے تو ٹریفک قانون کے مطابق آپ اسی چالان کو استعمال میں لاتے ہوئے رات کے 12 بجے تک مزید چالان سے بچ سکتے ہیں۔

    (٥).. کسی بھی چیز کو خریدتے ہوئے ہمیں اس بات کا پتہ ہونا چاہیئے کہ اس چیز پر لکھی ہوئی قیمت کو ہم دکاندار سے کم کروا سکتےہیں لیکن دکاندار لکھی ہوئی قیمت سے زیادہ پر اس چیز کو قانوناً نہیں بیچ سکتا۔

    (٦) ہندوستان کے قانون کے مطابق اگر کسی پولیس افسر کے سامنے کوئی جرم کیا جارہا ہے اور اگرچہ وہ پولیس افسر اس وقت وردی میں نہیں یا ڈیوٹی پر نہیں ہوتا تو بھی وہ پولیس افسر اس جرم کے لیے چشم دید قرار دیا جائے گا۔مطلب یہ کہ ایک پولیس افسر ہمیشہ ڈیوٹی پر ہوتا ہے چاہے وہ وردی میں ہو یا نہ ہو۔

    (٧) ہندوستان کے سارایس ایکٹ ١٨٦٧ کے مطابق کوئی بھی آدمی کسی بھی ہوٹل سے کسی بھی وقت مفت میں پانی کا استعمال کرسکتا ہے اس کے علاوہ وہ اس ہوٹل کے بیت الخلاء کو بھی مفت میں استعمال میں لا سکتے ہیں ۔

    (٨) ہندوستان کے قانون کے مطابق ایک عورت ہندوستان کے کسی بھی پولیس سٹیشن میں اپنی شکایت درج کرا سکتی ہے اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کس جگہ پر رہتی ہے۔

    (٩) ہندوستان کے قانون کے مطابق کسی بھی مجرم کو گرفتار کرنے کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پولیس والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس مجرم کو منصف کے سامنے پیش کیا جائے۔

    (١٠) ایک مجرم کے گرفتار ہونے پر اس کا یہ قانونی حق ہے کہ اس اس کی گرفتاری کی وجہ بتائی جائے ۔

    See less
    • 0