Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. ایک انوکھا عجائب گھر سبق میں مصنف نے حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم کے حوالے سے اہم معلومات بیان کی ہیں۔ سبق کا آغاز بچوں کی گفتگو سے ہوتا ہے جہاں سلمان،حنا اور جاوید اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ وہ کونسی جگہ ہے کہ جہاں پر صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی پرانی سے پرانی چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں۔Read more

    ایک انوکھا عجائب گھر سبق میں مصنف نے حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم کے حوالے سے اہم معلومات بیان کی ہیں۔ سبق کا آغاز بچوں کی گفتگو سے ہوتا ہے جہاں سلمان،حنا اور جاوید اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ وہ کونسی جگہ ہے کہ جہاں پر صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی پرانی سے پرانی چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں۔کیونکہ ان کے والد نے امتحان ختم ہونے کے بعد ایسی جگہ لے جانے کا وعدہ کیا تھا جہاں وہ پوری دنیا کی تہذیب کا نظارہ کر سکیں۔

    بچے اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ان کی امی نے انھیں اس جگہ کے بارے میں کچھ نشانیاں بتائیں کہ یہاں چین کے برتن، تبت کی لکڑی کا سامان اور اس طرح کی قیمتی اشیاء موجود ہیں۔اس کے علاوہ قیمتی پتھر،مینا کاری کی اشیاء اور پینٹنگز بھی یہاں موجود ہیں۔ بچوں کو اندازہ ہو گیا کہ وہ لوگ حیدرآباد میں واقع سالار جنگ میوزیم جا رہے ہیں۔جہاں مغلیہ دور حکومت کی اشیاء اور ٹیپو سلطان کی کرسی اور عمامہ بھی موجود ہے۔

    ان کے والد نے ان کو بتایا کہ یہ میوزیم 16 دسمبر1951ء میں پہلے سالار جنگ کی رہائش گاہ دیوان ڈیوڑھی میں قائم کیا گیا تھا۔ ہندوستانی حکومت نے 1961ء میں قانون پاس کر کے اس عجائب گھر کو قومی سطح کے ادارے اور چار منزلہ عمارت میں تبدیل کیا۔بچوں کے پوچھنے پر والد نے بتایا کہ اس میوزیم میں سالار جنگ کی تین پشتوں کا جمع کیا ہوا سامان ہے جسے جمع کرنے میں سالار جنگ سوئم نواب میر یوسف علی خاں نے اہم کردار ادا کیا۔

    میوزیم میں دنیا بھر سے لائی گئی 43000 چیزیں جن کا تعلق الگ فنون سے ہے اور 50000 کتابیں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ جبکہ اس میں سے بہت سا سرمایہ یہاں کے ملازمین لے گئے اور کچھ حصہ منتقلی کے دوران کھو گیا۔ میوزیم میں ہر قسم کی چیزوں کے لیے الگ کمرے اور گیلریاں بنائی گئی ہیں۔

    یہاں پر مغلوں کے استعمال کی نادر اشیاء،ٹیپو سلطان کا عمامہ اور کرسی،سالار جنگ کے خاندان کی تین پشت کا جمع کیا ہوا سامان،سندھ،مصر، میسوپوٹیمیا اور یونان کی تہذیبوں کا سامان،گوتم بدھ کا مجسمہ، مختلف مذاہب کے دیوی دیوتا، کانسی اور لکڑی سے بنی ہوئی مورتیاں،برتن، گھڑیاں اور ہاتھی دانت کا سامان وغیرہ رکھا گیا ہے۔ یہی پر نواب صاحب کے کپڑے کتابیں اور ان کی ضرورت کی اشیاء بھی نمائش پر موجود ہیں۔ بچوں نے بہت دلچسپی سے تمام چیزیں دیکھی اور اس تمام سے بہت لطف اٹھایا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. ناول' وہ نثری قصہ ہے جس میں ہماری زندگی کی تصویر ہوبہو پیش کی گئی ہو۔ ولادت سے موت تک انسان کو جو معاملات پیش آتے ہیں، جس طرح وہ حالات کو یا حالات اسے تبدیل کر دیتے ہیں وہ سب ناول کا موضوع ہے۔ خلاصئہ کلام یہ کہ ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں زندگی کے سارے روپ دیکھے جا سکتے ہیں۔ لفظ "ناول" اطالویRead more

    ناول’ وہ نثری قصہ ہے جس میں ہماری زندگی کی تصویر ہوبہو پیش کی گئی ہو۔ ولادت سے موت تک انسان کو جو معاملات پیش آتے ہیں، جس طرح وہ حالات کو یا حالات اسے تبدیل کر دیتے ہیں وہ سب ناول کا موضوع ہے۔ خلاصئہ کلام یہ کہ ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں زندگی کے سارے روپ دیکھے جا سکتے ہیں۔ لفظ "ناول” اطالوی زبان کا لفظ "ناویلا” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں نیا، عجیب یا انوکھا کے ہیں۔ کلاراریوز کے مطابق:۔ ” ناول اس زمانے کی زندگی اور معاشرت کی سچی تصویر ہے جس زمانے میں وہ لکھا جا ئے”۔ ایچ۔۔ جی۔۔ ویلز کے مطابق:۔ "اچھے ناول کی پہچان حقیقی زندگی کی پیشکش ہے”

    ناول کے اجزائے ترکیبی:

    ناول کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں یعنی وہ کیا چیز یں ہیں جن کا کسی ناول میں پایا جانا ضروری ہے۔ فن کے نقطۂ نظر سے جن چیزوں کا ناول میں پایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہیں۔ قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور نقطۂ نظر۔ اب ان اجزا کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

    قصہ:

    قصہ وہ بنیادی شے ہے جس کے بغیر کوئی ناول وجود میں نہیں آ سکتا۔ کوئی واقعہ ،کوئی حادثہ،کوئی قصہ فن کار کو قلم اُٹھا نے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک ضروری بات اور۔ پڑھنے والے کو یہ قصہ بالکل سچا لگنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ قصہ جتنا جاندار ہوگا قاری کی دلچسپی اس میں اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اب یہ فن کار کی ذمہ داری کہ وہ اس دلچسپی کو برقرار رکھے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کہانی اس طرح آگے بڑھے کہ پڑھنے والا یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ گویا کہانی پن برقرار رہے۔

    پلاٹ :

    پلاٹ قصے کو ترتیب دینے کا نام ہے۔ ایک کامیاب فن کار واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ایسا منطقی تسلسل ہونا چاہیے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ بالکل فطری معلوم ہو۔ واقعات ایک دوسرے سے ہوری طرح پیوست ہوں تو پلاٹ مربوط یا گٹھا ہوا کہلائے گا۔ اور ایسا نہ ہو تو پلاٹ ڈھیلا ڈھیلا کہلائے گا جو ایک خامی ہے۔”امراؤجان ادا” کا پلاٹ گٹھا ہوا اور کسا ہوا ہے جب کہ ” فسانہ آزاد ” کا پلاٹ ڈھیلا ڈھالا ہے۔ ناول میں ایک قصہ ہو تو پلاٹ اکہرا یا سادہ کہلائے گا۔ ایک سے زیادہ ہوں تو مرکب جیسا کہ ” امراؤ جان ادا” میں ہے۔ کچھ دنوں بحث چلی کہ پلاٹ کا ہونا ضروری ہے بھی یا نہیں۔ ہماری زبان کا ناول ” شریف زادہ” بغیر پلاٹ کے واحد ناول ہے۔ لیکن اصلیت یہ ہے کہ پلاٹ کے بغیر کامیاب نال کا تصور ممکن نہیں۔

    کردار نگاری:

    کردار نگاری ناول کا اہم جزو ہے۔ ناول میں جو واقعات پیش آتے ہیں ان کے مرکز کچھ جاندار ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ انسان ہی ہوں۔ حیوانوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ یہ افراد قصہ کردار کہلاتے ہیں۔ یہ جتنے حقیقی یعنی اصل زندگی کے قریب ہوں گے ناول اتنا ہی کامیاب ہو گا۔ کردار دو خانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک پیچیدہ ( راؤنڈ) دوسرے سپاٹ (فلیٹ) ۔۔ انسان حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ جن کرداروں میں ارتقا ہو تا ہے یعنی جو کردار حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں وہ راؤنڈ کہلاتے ہیں۔ جیسے مرزا ہادی رسوا کے امراؤجان ادا اور سلطان مرزا۔ اسی طرح کے کردار جیتے جاگتے کردار کہلاتے ہیں اور ادب کی دنیا میں امر ہو جاتے ہیں۔ جو کردار ارتقا سے محروم رہ جاتے ہیں پورے ناول میں ایک ہی سے رہتے ہیں وہ سپاٹ کہلاتے ہیں۔ نذیر احمد کے "مرزا ظاہر دار بیگ” اور سرشارکے "خوجی” اس کی مثال ہیں۔ یہ دلچسپ ہو سکتے ہیں مگر سچ مچ کے انسانوں سے ملتے جلتے نہیں ہو سکتے۔

    مکالمہ نگاری:

    مکالمہ نگاری پر بھی ناول کی کامیابی اور ناکامی کا بڑی حد تک دارومدار ہوتا ہے۔ ناول کے کردار آپس میں جو بات چیت کرتے ہیں وہ مکالمہ کہلاتی ہے۔ اسی بات چیت کے ذریعے ہم ان کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں اور انہیں کے سہارے قصہ آگے بڑھتا ہے۔ مکالمے کے سلسلے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ مکالمہ غیر ضروری طور پر طویل نہ ہو کہ قاری انہیں پڑھنے میں اکتا جائے۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مکالمہ جس کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس کے حسبِ حال ہو۔

    منظر کشی:

    منظر کشی سے ناول کی دلکشی اور تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ منظر کشی کامیاب ہو تو جھوٹھا قصہ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔” امراؤجان ادا” میں مرزا رسوا نے خانم کے کوٹھے کا نقشہ ایسی کامیابی کے ساتھ کھینچا ہے کہ پورا ماحول ہمارے پیش نظر ہوجاتا ہے۔ عرس ،میلے،نواب سلطان کی کوٹھی کا ذکر ہے تو ایسا کار گر کہ لگتا ہے کہ ہم خود وہاں جا پہنچے ہیں۔ پریم چند کو بھی منظر نگاری میں بڑی مہارت حاصِل ہے۔ شرر اور طبیب کے ناولوں میں یہ کمزوری نمایاں ہے۔

    نقطۂ نظر:

    نقطۂ نظر جسم میں خون کی طرح فن کار کے قلم سے نکلی ہوئی ایک ایک سطر میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ ہر انسان اور خاص طور پر فن کار کائنات اور اس کی ہر شے کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو گویا اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنا نقطۂ نظر واضح کرتا ہے۔ غرض یہ کہ ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نقطۂ نظر کار فرما ہوتا ہے۔ اور اصنف اسی کی خاطر تخلیق کا کرب جھیلتا ہے۔ مولوی نذیر احمد نے ” ابن الوقت” یہ واضح کر نے کے لیے لکھا کہ بے سوچے سمجھے نقالی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔ ان کا ہر ناول اصلاحی نقطۂ نظر کا حامِل ہے۔

     

    حوالہ جات:

     "”اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ–مصنف ڈاکٹر سُنبل نگار

    See less
    • 0
Sajid
  1. مرزا ہادی رسوا کے ناول امراؤ جان ادا میں امیرن کے بعد دلاورخان اور دلاور خان کے بعد بوا حسینی کا کردار ہے- جب دلاور خان نے امیرن کو جسم فروشی کے بازار میں بیچ دیا تو امیرن کی پرورش کی ذمہ داری بوا حسینی نے خانم جان سے اپنے ذمہ مانگ لی- جب امراؤ جان کو دلاورخان خانم جان کو بیچ دیتا ہے، تب خانم جان حسRead more

    مرزا ہادی رسوا کے ناول امراؤ جان ادا میں امیرن کے بعد دلاورخان اور دلاور خان کے بعد بوا حسینی کا کردار ہے- جب دلاور خان نے امیرن کو جسم فروشی کے بازار میں بیچ دیا تو امیرن کی پرورش کی ذمہ داری بوا حسینی نے خانم جان سے اپنے ذمہ مانگ لی-

    جب امراؤ جان کو دلاورخان خانم جان کو بیچ دیتا ہے، تب خانم جان حسینی سے پوچھتی ہے-
    "خانم جان:-(حسینی سے)حسینی! یہ چھوکری اتنے داموں میں کچھ مہنگی تو نہیں معلوم ہوتی؟
    حسینی:- مہنگی! میں کہتی ہوں سستی-”
    اور پھر حسینی سے خانم جان نے کہا کہ سستی نہیں ہے- یہ لڑکی ابھی کہیں اور بکتی تو اس سے کم دام میں ہی بکتی- خانم جان بات ہی بات میں ساری باتیں حسینی سے کہتی ہے-اور افسوس بھی جتاتی ہے کہ کیسی معصوم بچی ہے اس کے ماں باپ کتنے تڑپ رہے ہوں گے- خانم جان حسینی سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں، اگر ہم لوگ نہ خریدتے تو کوئی اور خرید لیتا-اور پھر اس کے ساتھ کتنا برا سلوک بھی کرتا- اس پر حسینی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتی ہے کہ صحیح کہا- اگر کہیں اور جاتی تو برا سلوک ہوتا اور آپ کے یہاں تو اسے کسی چیز کی کمی نہ رہے گی-

    اور اس کے بعد حسینی خانم جان سے منت کرتی ہے کہ امیرن کو وہ ا سے دے دیں- حسینی کو امیرن بہت پسند تھی- اس کا بھولا پن اس کا بچپنا حسینی کو بہت ہی بھا رہا تھا-

    خانم جان امیرن کو حسینی کو دے دیتی ہے- امیرن بوا حسینی کے ساتھ چپ چاپ چلی جاتی ہے-

    بوا حسینی امیرن سے بات کرتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ وہ کہاں سے آئی ہے- اس کے ابا کانام پوچھتی ہے اور جب اس کا نام پوچھتی ہے تو امیرن کا نام خانم جان کو پسند نہیں آتا اور خانم جان امیرن کا نام بدل کر امراؤجان رکھ دیتی ہے-

    اس کے بعد بواحسینی امراؤ جان کو کھانا کھلاتی ہیں- اور مٹھائیاں بھی کھلا تی ہیں- اس کے بعد منہ ہاتھ دھلا کر اپنے ہی پاس سلا لیتی ہیں-

    جب امراؤجان سوتے سوتے خواب دیکھتی ہے تو اس کے ابا اماں نذر آتے ہیں- وہ خواب میں ہی روتے-روتے سسکیاں لیتی ہے- تو بواحسینی اسے جگاتی ہیں- اور امراؤ جان کے ساتھ ساتھ خود بھی رونے لگتی ہیں-

    اس ناول میں بوا حسینی کا کردار ایک بہت ہی سنجیدہ نیک عورت کا ہے- بوا حسینی کے اتنے زیادہ لاڈ پیار نے امراؤ جان کو بدل دیا اور وہ جلدی ہی اپنے گھر کو بھول گئی- اور بوا حسینی کو ہی اپنا سب کچھ ماننے لگی-

    بوا حسینی بھی امراؤ جان کو بہت زیادہ ماننے لگی تھی- اسے اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھی- بوا حسینی کا کردار اس ناول میں امراؤ جان کی زندگی میں ایک ماں کے سائے کی طرح ہے- ماں کے سائے کے بنا ہر بچی مایوس اور بے بس ہوجاتی ہے- لیکن جب بواحسینی سے امراؤ جان کو ماں کی محبت ملنے لگی- تو وہ آسانی سے اس ماحول میں ڈھلنے لگی-

    ایک ماں کو چھوڑ کر آئی تو اسے دوسری ماں مل گئی- اور وہ اب سمجھ گئی تھی کہ یہی اس کی زندگی ہے- اس لئے امراؤ جان، ہمیشہ کے لئے امراؤجان ادا بن گئی-

    See less
    • 0
Sajid
  1. فسانہ آزاد پنڈت رتن ناتھ در سرشار کا لکھا ہوا ناول ہے- پنڈت رتن ناتھ در سرشار کی پیدائش 1847ء میں لکھنؤ میں ہوئی- ان کا نام پنڈت رتن ناتھ در تھا اور تخلص سرشار تھا- ان کے والد کا نام پنڈت بیج ناتھ در تھا- پنڈت رتن ناتھ سرشار کے والد کشمیر کے رہنے والے تھے- لیکن روزی روٹی کی تلاش میں لکھنؤ چلے آئے اوRead more

    فسانہ آزاد پنڈت رتن ناتھ در سرشار کا لکھا ہوا ناول ہے- پنڈت رتن ناتھ در سرشار کی پیدائش 1847ء میں لکھنؤ میں ہوئی- ان کا نام پنڈت رتن ناتھ در تھا اور تخلص سرشار تھا- ان کے والد کا نام پنڈت بیج ناتھ در تھا- پنڈت رتن ناتھ سرشار کے والد کشمیر کے رہنے والے تھے- لیکن روزی روٹی کی تلاش میں لکھنؤ چلے آئے اور یہیں آکر بس گئے- سرشار چار سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا- سرشار نے عربی فارسی اور انگریزی کی تعلیم لکھنؤ سے ہی حاصل کی اور پھر ایک مدرسہ کی خدمات میں ملازم ہو گئے- اور پھر "اودھ اخبار” میں قسطوں میں مضامین لکھنے لگے- لوگوں کو ان کے مضامین بےحد پسند آنے لگے اور پنڈت رتن ناتھ سرشار کا معیار اونچا ہونے لگا-

    فسانہ آزاد کے چھوٹے چھوٹے قصے قسطوں میں اودھ اخبار میں 1878ء سے شائع ہونے لگے- اور سرشار اودھ اخبار کے ایڈیٹر بن گئے- پھر اس کے بعد سرشار 1895ء میں حیدرآباد آ گئے- اور مہاراجا کشن پرساد نے دو سو روپے ماہوار پر ان کے اخبار (دبدبہ آصفیہ) میں کام کرنے لگے- اور پھر انہیں شہرت اور دولت نصیب ہوئی تو شراب کی لت بھی لگ گئی- جس کی وجہ سے صحت خراب ہوئی اور بیمار رہنے لگے – 1902ء میں انتقال کر گئے-

    پنڈت رتن ناتھ در سرشار کی تصانیف

    سرشار کی سب سے پہلی تصنیف چار حصوں پر مشتمل ہے- یہ 1879ء میں شائع ہوئی- سرشار کی دوسری تصنیف فسانہ آزاد (ناول) 1880ء میں شائع ہوا- (اعمال نامہ) جو "ہسٹری آف رشیا” کا اردو ترجمہ ہے 1887ء میں شاہکار ہوا- جام سرشار (ناول) 1887ء میں اودھ پنج اخبار میں فسانہ جرید کے نام سے قسط میں شائع ہوتا رہا- اس کے علاوہ سیر کو ہسار، کامنی، خدائی فوجدار بہترین تصانیف ہیں- اور الف لیلیٰ کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو بہت ہی زیادہ مقبول ہوئی-

    فسانہ آزاد

    پنڈت رتن ناتھ سرشار کا یہ ناول بہت ہی زیادہ طویل ہے جو چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے- 1878ء میں لکھا گیا یہ ناول اودھ پنج اخبار میں فنی جائزہ سے شائع کیا- اس کے بعد 1880ء میں نول کشور لکھنؤ نے پہلی بار اس کو کتابی شکل میں چھاپ کر اس کا مقام اور زیادہ اونچا کردیا- فسانہ آزاد میں تقریباََ ٥ پلاٹ موجود ہیں- اس کا پلاٹ بالکل ہی ڈھیلا ڈھالا ہے- واقعیات بالکل ایک دوسرے سے جدا ہیں- بلکہ کہیں کہیں پر تو ایسے واقعات پیش کئے ہیں جس کا اس قصے سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے- سرشار کا اس ناول کو لکھنے کا ایک ہی مقصد تھا- لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب کو سامنے لانا اور لوگوں کو فنی لطافت سے خوش کرنا- فسانہ آزاد بہترین ناولوں میں سے ایک ہے- جس کا شمار کلاسکی ناولوں میں ہوتا ہے- سرشار کا لکھا ہوا یہ ناول جسے لکھے ہوئے سو سال سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں آج بھی بہت زیادہ مقبولیت رکھتا ہے- پلاٹ کے بارے میں ڈاکٹر احسن فاروقی لکھتے ہیں-

    "حقیقت میں یہاں سیکڑوں پلاٹ ہیں جن پر غوروفکر کرنے کے بعد ایک مرکب پلاٹ کی ناول بن سکتی تھی- مگر اس تصنیف میں ایسا کرنے کی طرف کوئی توجہ دکھائی نہیں دیتی-”

    ڈاکٹر احسن فاروقی کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اگر سرشار چاہتے تو ایک مضبوط پلاٹ تیار کر سکتے تھے- مگر ان کے بے ساختہ لکھنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنا ناول صرف اور صرف فنی اعتبار سے لکھا-

    کردار

    فسانہ آزاد میں کرداروں کی بھرمار ہے- قریب تین ہزار کردار شامل ہیں جن میں کچھ کردار اہم ہیں-

    سب سے اہم کردار آزاد کا ہے جو اس ناول کا ہیرو ہے اور دوسرا اہم کردار خوجی ہے- جو مزاحیہ کردار اور اس ناول کی جان ہے- حسن آرا اس ناول کی ہیروئن ہے – اس کے علاوہ حسن آرا کی بہن سہر آرا اور اس کا عاشق ہمایوں فر، نواب صاحب، اچھے مرزا، ثرئیا بیگم، بڑی بیگم، ذالفقار علی خاں وغیرہ بھی شامل ہیں-

    مکالمہ نگاری-

    سرشار نے بھلے ہی اس ناول کو قلم برداشتہ لکھا ہے- لیکن انہوں نے مکالمہ نگاری کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے- انہوں نے لکھنؤ کی معاشرت کو روزمرہ کے واقعات بناکر ایسے پیش کیا ہے کہ ان کی بات چیت سے جو شخص جیسا ہے بالکل ویسا ہی محسوس ہوتا ہے- اگر کوئی شخص عالم فاضل ہے تو اس کے منھ سے تہذیب کے ساتھ الفاظ نکلتے ہیں اور جو شخص برباد ہے عیش و آرام میں مبتلا ہے تو وہ ویسا ہی الفاظ نکالتا ہے- بانکا ہے اگر تو ویسا ہی غصہ ظاہر ہوتا ہے- اور اگر کوئی نشے کا عادی ہے تو وہ ویسا ہی محسوس ہوتا ہے-اس لئے تو ان ساری باتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں سرشار کی قابلیت کا قائل ہونا پڑا ہے-

    منظر نگاری-

    سرشار نے لکھنؤ کے معاشرے کو روزمرہ کے واقعات میں ڈھال کر منظر نگاری کا بہت ہی بہترین نمونہ پیش کیا ہے-

    آزاد جب بازار سے گزرتا ہے تو بالکل بازاری منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے- "بازار بھر میں سناٹا- حلوائی بھٹی میں سو رہا ہے- مگر تابنائی برتن دھو رہا ہے- کپڑے کی دکانیں بند جوہریوں کی دکان میں تالا لگا ہوا ہے- مگر تمباکو والا جاگ رہا ہے- خاکروب سڑک پر جھاڑو دے رہا ہے-”

    ایسے جملوں اور الفاظوں کا استعمال کیا ہے جس سے منظر آنکھوں سے واضح ہوتے ہیں-

    موضوع

    فسانہ آزاد کا اہم موضوع لکھنؤ کے معاشرے کو سامنے لانا اور لکھنؤ کی بگڑتی ہوئی تہذیب کو دکھانا تھا- جس طرح سے اس قصے میں بانکوں کا نام آتا ہے- انہیں بانکوں میں سے آزاد بھی ہیں- آزاد بھلے ہی اس ناول کے ہیرو ہیں لیکن پھر بھی وہ ایک بگڑے ہوئے آوارہ لڑکے ہیں جس کا کوئی ٹھکانا نہیں- آج کہیں ہیں توکل اور کہیں اور دھوکا دینے میں تو بہت ہی زیادہ اول ہیں- اس ناول میں خوجی کے کردار کو بھی دکھایا ہے- وہ ایک کردار تو ہے مگر اس کی عادتوں سے مٹتی ہوئی تہذیب دکھتی ہے-

    حقیقت نگاری

    سرشار نے حقیقت نگاری کا بہت ہی کمال دکھایا ہے- انہوں نے بعض ناول نگاروں کی طرح سوچی ہوئی کہانی نہیں دکھائی- بلکہ لکھنؤ کے روزمرہ کے ہونے والے واقعات کی حقیقت کو ہی اپنا موضوع بنایا- سرشار کے ناول میں ربط و تسلسل کی بہت زیادہ کمی ہے- واقعات ایک دوسرے سے بالکل نہیں ملتے- اس کی وجہ یہ ہے کہ سرشار نے ناول کو چھوٹی چھوٹی قسطوں میں شائع کیا- اس لئے یہ چھوٹے چھوٹے قصے بالکل بے رابطہ ہیں-

    لیکن ان سب کے باوجود جو مقبولیت اور شہرت فسانہ آزاد کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں مل پائی- اتنے سالوں بعد بھی آج بھی لوگ اسے پڑھ کر اتنا ہی لطف اٹھاتے ہیں جتنا کہ کل اٹھاتے تھے-

    See less
    • 0
Sajid
  1. بقول  مولانا حالی مسلمانوں کے مذہبی خیالات کی اصلاح اور ان کو ترقی کی طرف مائل کرنے کے لیے سرسید نے یہ اخبار جاری کیا انہوں نے اخبار کو جاری کرنے کے لیے اپنے ولایت کے قیام کے دوران کیا ادا کر لیا تھا۔ اس کا ثبوت ہمیں اس بات سے ملتا کہ اس اخبار کی پیشانی پر اس کا نام اور اپیل جس  طرح چھپی ہے اس کا ٹاRead more

    بقول  مولانا حالی مسلمانوں کے مذہبی خیالات کی اصلاح اور ان کو ترقی کی طرف مائل کرنے کے لیے سرسید نے یہ اخبار جاری کیا انہوں نے اخبار کو جاری کرنے کے لیے اپنے ولایت کے قیام کے دوران کیا ادا کر لیا تھا۔ اس کا ثبوت ہمیں اس بات سے ملتا کہ اس اخبار کی پیشانی پر اس کا نام اور اپیل جس  طرح چھپی ہے اس کا ٹائپ لندن سے بنواکر ساتھ لائے تھے۔ سرسید مرحوم نے اپنے دوستوں اور حامیوں کی ایک  کمیٹی قائم کی تھی۔ جس کے ہر ممبر سے تہذیب الخلاق کو چلانے کے لیے ساٹھ روپے سالانہ اور عام قاری کی کم سے کم تین روپے سالانہ چندہ اور  ڈیڑھ روپیہ موصول کا وصول کرتے تھے علی گڑھ سے 24 دسمبر 1870ء  کو یہ اخبار ایک یا دو بار جیسا کہ وہ مقتضیٰ   مضامین ہوتا تھا ۔چھپتا تھا یعنی اگر زیادہ مضامین جمع ہوجاتے تو دوبارہ چھپ جاتا تھا لیکن اگر مضامین کم ہوتے تو ایک ہی بار چھپتا تھا۔ ابتدا میں یہ  منشی مشتاق حسین کے اہتماممعی اور پھر حافظ محمد عبد الرزاق کی دیکھ ریکھ  میں چھپتا رہا اس کے ایڈیٹر خود سر سید تھے ۔  یہ اخبار  تاجرانہ مقاصد کے لیے جاری کیا گیا تھا بلکہ قوم کی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس لیے اس سے جو آمدن حاصل ہوتی تھی اس کی اشاعت بڑھانے کے لئے صرف کیا جاتا تھا۔

    تہذیب الخلاق کے جاری کرنے کا مقصد سر سید احمد کے نزدیک کیا تھا اس کا اندازہ تہذیب الخلاق کے پہلے پرچے کے اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے اس پرچے کے اجراء کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجے کی ( civilization)  یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے مہذب  قومیں ان کو دیکھتی ہے وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز اور مہذب قوم کہلائی ( civilization)  ایک انگریزی لفظ ہے جس کا تہذیب ہم نے ترجمہ کیا ہے مگر اس  کے معنی نہایت وسیع ہیں اس سے مراد انسان کے تمام افعال ارادی، اخلاق، معاملات ،  معاشرت و تمدن، اور طریقہ تمدن اور صرف اوقات اور علوم و فنون ہنر کو اعلی درجے کی آمدنی پر پہنچانا اور ان کو نہایت خوش  اسلوبی سے برتنا جسے اللہ خوش اور جسمانی سکون نصیب ہوتی ہے تمکن وقار اور قدر منزل حاصل کی جاتی ہے اور وہ شانہ اور انسانیت میں نظر آتی ہے ایک عیسائی مورخ ترکی یعنی روم کی سیر کے بعد اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے کہ ترک جب تک اسلام کو نہ چھوڑیں گے۔مہذب نہ ہوں گے ۔ کیونکہ مذہب اسلام انسان کی تہذیب کے مطلق قومی ہیں سلطان عبدالعزیز خان سلطان روم جو بالفصل  بادشاہ ہے کوئی اس بات کی تحقیقات منظور ہوئی کہ درحقیقت مذہب اسلام معانہ تہذیب ہے یا نہیں  اور چند  علماء  وزراء کی کونسل اس امر کی نسبت راے لکھنے کو  مقرر کی   جس کا آفیسر فواد پاشا تھا ۔ اس کونسل نے جو رپورٹ لکھی ہے  اس کے دو حروف کا ترجمہ اس مقام پر لکھا جاتا ہے ۔” اسلام   میں سب اچھی باتیں   ہیں جو ترقی کو حاصل کرنے والی اور انسانی تہذیب رحمدلی  کو درجہ کمال  پر پہنچنے والی ہیں مگر ہم کو اپنی بہت ساری رسومات وعادات۔ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. This answer was edited.

      تلخیص:   غزل اُردو ۔ فارسی یا عربی کی ایک صنفِ سُخن ہے۔جس کے پہلے دو مِصرے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے لیے پہلے ریختہ لفظ استعمال میں تھا۔( امیر خسروؒ نے موسیقی کی راگ کو ریختہ نام دیا تھا) ادب کے دیگر اصناف ادب اور فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ غزل کو پسند کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ غزل اسٹیج کےRead more

     

    تلخیص:

     

    غزل اُردو ۔ فارسی یا عربی کی ایک صنفِ سُخن ہے۔جس کے پہلے دو مِصرے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے لیے پہلے ریختہ لفظ استعمال میں تھا۔( امیر خسروؒ نے موسیقی کی راگ کو ریختہ نام دیا تھا) ادب کے دیگر اصناف ادب اور فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ غزل کو پسند کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ غزل اسٹیج کے علاوہ سخن کا بہترین ذریعہ اظہار بھی ہے۔ کم لفظوں میں مکمل بات کرنے کا ہنر ہے۔ غزل کا سانچا چھوٹا ہوتا ہے اسی لیے جذبے یا خیالات کو پھیلانے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ اس لیے رمز، ایما ،تمثیل و استعارہ، پیکر آفرینی اور محاکات اُس کے فنی لوازم بن گئے ہیں۔ غزل متنوع موضوعات کا مرکب ہوتی ہے۔اس مقالہ کا بنیادی مقصد قدیم اور جدید غزل کی بدلتی ہئیت اور معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ ہیئت سے مراد ‘انداز و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب شعری تخلیق کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ہم نےموضوع کے تحت اُردوغزل کے آغاز کا جائزہ تاریخی پس منظرمیں لیا ہے۔ اس صنف کی ہئیت کو مستند اشعار کوثبوت میں پیش کیا ہے۔ تاکہ عنوان کی صحیح معنویت کی وضاحت ہو سکے۔ غزل قصیدے کا جزو تھی، جس کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ پھر وہ الگ سے ایک صنفِ شعر بن کرقصیدے کے فارمیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ فنی اعتبار سے بحر اور قافیہ ’’بیت‘‘ اور غزل کے لیے یکساں ہے۔

    اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت کی داستان کو چار ادوار میں منقسم کیا گیاہے ۔پہلا دکنی غزل ۔ دوسرا اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے آخر تک ۔ تیسرا۱۸۵۷ء سے اقبال تک کا جائزہ لیا گیا ہےاور آخری میں اقبال کے بعد جدید دور تک کا احاطہ کیا گیاہے۔

    اس کے بعد ترقی پسند(۱۹۳۶ء تا۱۹۵۰ء) کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں غزل ہئیت اور معنویت دونوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئ۔ ترقی پسندوں نے بھی غزل کے متعلق اپنی اجدادی وراثت اور روایت سے بےشمار غلط سمجھوتے کیے۔ قدیم روایاتی علامات، استعاروں، تشبیوں، تلمیحات یا کتب وغیرہ کو غیر روایاتی معنیٰ اور ماہیم دینے کی کوشش کی۔ اس طرح قدیم روایت کے ملے جلے اثرات ترقی پسندوں کی روایت شکنی کے اعلانات کے باوجود جدید غزل میں شعوری اور غیر شعوری طور سے سرایت کرتے چلے گئے۔

    جدید تحقیق میں اُردو غزل کا پہلا نمونہ امیر خسرؔو کے ہاں ریختہ کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بغیر بہت سے صوفیائے کرام نے شاعری کو اظہار خیالات کا ذریعہ بنایا لیکن غزل کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بہمنی سلطنت میں غزل کے نمونے بہت ہیں۔ لیکن گولکنڈہ کی سلطنت کے قطب شاہی اور عادل شاہی حکمران کی شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے اردو غزل بہت ترقی کی۔ مقالہ میں غزل کے بدلتی روایت کو نویں صدی کے اواخر میں فارسی غزل سے ترقی کر کے سترویں صدی میں اردو میں منتقل ہونے تک کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ اس لیے فارسی کے عصری معنویت اور تاثرات بھی اردو غزل میں کوبہ کو نظر آتے ہیں۔

    ابتدائی غزلوں میں ماسوائے عشق و محبت کے مضامین باندھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کیوں کہ خود غزل کے لغوی معنی بھی عورتوں سے بات چیت کرنے کے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا شبلی نے بھی غزل کو عشق و محبت کے جذبات کی تحریک سمجھا۔لیکن بعد حاؔلی نے مقدمہ شعر و شاعری میں غزل کے ہر مضمون کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔جس کے بعد اس صنف میں ہر قسم کے خیالات بیان کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی بدلتی ہئیت کو اس کی مناسب معنویت کے ساتھ تحقیقی نقطہ نظر سے بیانیہ انداز میں تاریخی تحقیق کا طریقہ کار میں مقالہ قلم بند کیا گیاہے۔یہ مقالہ طلباء ٹیچر اور شعراء کو اردو غزل کی ہئیت اور مختصر تاریخ کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا۔ کلیدی الفاظ:اُردو غزل،تفہیمِ غزل، غزل کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت۔ تعارف: غزلولیت اردو شاعری کی آبرو ہے۔

    اگر چہ مختلف زمانوں میں شاعر کی بعض دوسری قسمیں بھی اردو میں بہت مقبول رہی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکی نہ ہی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچا سکی۔ پھر بھی بیسویں صدی کے نصف میں اس صنف کے بہت مخالفین پیدا ہوئے لیکن مقبولیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ لفظ ’غزل‘ کے سنتےہی حواسِ خمشہ بیدار ہو جاتے ہیں۔یہ صنف ادب و سخن میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے، عام و خاص کی ابتدا د سے ہی دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ فنی نقطہ نظر سے بھی اس مقام اعلیٰ ہے۔ عالمی سطح پر سیر و تفریح کرتی ہے۔ یہ ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے۔جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے۔ ناگن سی ناچتی مستی شراب کی لزت بھی اسی میں ہے۔ قوموں ‘ملکوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔میر و غالب ہوئے ‘ حالی درد بیدل اقبال ہوئے یا پھر جگر مومن اور درد آتش ہوئے۔ حسرت اس صنف سے فیضیاب ہوئے تو جرأت نے ایسی داغ بیل ڈالی کے سب ذوق اس کے آگے فانی ہوئے۔ ناطق اپنے جوش وجگر سے بے نظیر ہوئے۔ شاد فرازا و رفراق نے شوق سے غزل کےآرزو مند ہوئے۔ ندا سے اس کی ہر کوئی سر شار ہوئے۔

    دکن میں قطب، خواجہ ، شوقی، عادل ،نصرتی، میرا ں،غواصی،وجہی سب اس کے جاں نثار ہوئے۔ وہیں ان کے نقش قدم پر وؔلی ، سراج اور صفی بھی متوجہ ہوئے ۔ شمال میں شاہ حاتم ، آبرو، مظہر نے لطف اور مجاز سے کوئی بہادر ہوئے کوئی ظفر ہوئے۔ ایہام گوئی کے آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، سجاد، یقین، میری ، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز اس صنف کے عاشق ہوئے۔ دبستان لکھنو میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم ، آتش، ناسخ،تلامذہ اور انیسؔ نے غزل گو ئی کو اپنا خون و جگر دیا۔ وہیں ناؔصر ، ناسخ، نصرتی نے بڑی آرزؤں ‘ آزادخیالی سے اس کے مجروع ہوئے۔

    اس طرح سے غزال کو غزل بنانے میں ہر کوئی اپنے اپنے وہت کے ساتھ اس فن کو فروغ دیتے رہے ۔لیکن روایتی طور پر سب اپنی دکھ اور درد کو ہلکا کرنے کا ذریعہ غزل کو ہی تصور کر رکھا تھا ۔ اس کے برعکس مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے روایت کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس میں انہوں نے عورتوں سے بات کرنے کے بجائے سماج کی باتیں کرڈالی۔خاص طور پر مسدس، مدوجزر اسلام لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی اور نئے امکان سے روشناس کیا۔انہیں کی وجہ سے اردو غزل میں نئے رنگ و آہنگ پید اکیا۔ حالاں کہ ان کی غزلیات کا دیوان مختصر ہے لیکن تمام تر منتخبہ ہے۔ثبوت میں ان کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں:

    بُری اور بھلی سب گذرجائے گی؛

    یہ کشتی یوں ہی پار اُتر جائےگی

    ملے گا نہ گُلچیں کر گُل پَتا؛

    ہر ایک پنکھڑی یوں بکھر جائےگی

    رہیں گے نہ ملّا یہ دِن سَدا؛

    کوئی دن میں گنگا اُتر جائے گی

    بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ؛

    یہ عزّت تو جائے گی پر جائےگی

    سنیں گے نہ حاؔلی کی کب تک

    صدا یہی ایک دِن کام کر جائےگی

    حالی ؔ کی غزل پیش کرنےکا مقصد یہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے چلی آرہی روایت سے ہٹ کر غزل گوئی کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کے کام کس طرح لینا ہے یہ ہم حالی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اس غزل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے شعر میں’ میرے احساسات اور میرے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں حال کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ دوسرے شعر میں ان کا خیال ہے شاعر خود کو ایک ایسے طاکر سے تشبیہ دیتا ہے جسے چمن سے جد کر کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ کس طرح قفس میں جی بہل جائےکیوں کہ اب ایسی زندگی گزارنی ہے۔ لیکن آشیاں کی یاد اُسے بے چین رکھتی ہے۔

    شاعر یاس کے عالم میں کہتا ہے کہ کوئی میرے آشیاں کو آگ لگادے۔ مجھے یقین ہوجائے گا کہ آشیاں جل چکا ہے تو پھر قفس کی زندگی چین سے گزرےگی۔ شاعر تیسرے شعر میں کہتاہے محبوب ‘ شاعر اشارے کنایہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو رقیب اور بو الہوس حسد کرتے ہیں۔ شاعر ایک پُر لطف طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ ان معمولی اشاراتِ نہاں میں کیا رکھاہے۔ بوالہوس بھی چاہیں تو اس قسم کی اشارہ بازی کرلیں ۔ مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

    چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے میری داستانِ غم بڑی طویل ہے۔ جب سناؤں تفصیلات ذہن میں آتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت ایک نئے عنوان کی کہانی سنارہا ہوں۔ کیا کیا جائے ۔ محبوب کے ظلم و ستم کی داستان میں اتنا تنوع ہے کہ میری داستان ہر وقت نئی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

    پانچویں شعر میں شاعر کہاتا ہے۔ خدانے مجھے ایک درمند دل عطاکیا ہے۔جس میں اپنے اور انسانیت کے دُکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ پُر درد دِل سیری زندگی کا بڑا سرمایہ ہے ۔ اس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک ہیجان کارفرما ہوتا ہے ۔ خدانے مجھے فرصت دی تو میں اپنے دل درد مند سے کچھ کام لوں گا۔ اور انسانیت کے دُکھ اور آلام کو منظرِعام پر لاؤں گا۔

    شاعر غزل کے آخری شعر میں لکھتا ہے ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت میں کیا باتیں چُھپی ہوئی ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہوتو کِسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے۔

    شاعر نے اس غز ل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ غزل صرف فحش یا لغو باتیں کرنے کا ہنر نہیں ہے نہ ہی عورتوں کے جسم کی ہرہر حرکت پر غورو خوص کا کام ہے۔ اس مختصر تعارف کے راقم نے مقالہ کے بنیادی مقصد کا احاطہ کچھ اس طرح کیاہے۔ غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور سب سے جاندار صنف ہے۔ دوسری تمام شعری اصناف مختلف ادوار میں عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں سے دو چار ہوئیں لیکن غزل کے آنگن میں ہمیشہ دھوپ ہی دھوپ کھلی رہی۔ غزل حقیقتاً ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ ہے۔ غزل صنفِ سخن ہی نہیں معیارِ سخن بھی ہے۔‘‘

    لفظ غزل کا ادبی مطلب محبوب سے گفتگو ہے۔تاریخ کی رو سے یہ عربی لفظ غزل سے بنا ہے۔ جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں ۔جو عام فہم زبان میں غزل ایک ایسی پابند منظوم صنف ہے۔ جس میں سات۔نویا درجن بھر یکساں وزن اور بحر کے جملوں کے جوڑے ہوں۔ اس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتام کےجوڑے کو مقطع کہتے ہیں۔ جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال کرتا ہے۔غزل کے شعر میں ہر جوڑے ہر انفرادی جملے کا یکساں دراز ہونا لازمی ہوتا ہے۔پابند جملوں کے یہ جوڑے شعر کہلاتے ہیں.

    اردو میں شعر کی جمع اشعار کہلاتی ہے۔غزل کے بنیادی نظریہ اور تعریف کے مطابق اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک آزاد اور مکمل منظوم معنیٰ رکھتا ہے۔کسی بھی شعرکا خیال اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال کےلئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے۔

     

    1.1غزل کا فن:

     

    اردو میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا مساوی ہونا ہے۔غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں آخری ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین الفاظ پوری غزل کا توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ غزل کے مطلع کا پہلہ مصرعہ بھی انہی الفاظ پر ختم ہونا چاہیے۔اسے غزل کا ردیف کہتے ہیں ردیف سے پہلے کا لفظ منظوم ہونا ضروری ہے۔

    علامہ اخلاق حُسین دہلوی نے اپنی تصنیف ’فن شاعری‘ میں ردیف سے متعلق کہا ہے’’ ردیف کے بدلنے سے قافیے کی حیثیت بدل جاتی ہے اور ایک ہی قافیہ کئی طریق سے بندھ ہو سکتا ہے جس سے مضامین وسعت اور ارنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ردیف جتنی خوشگوار اور اچھوتی ہوتی ہے اتناہی ترنم اور موسیقی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘قافیہ ہی غزل کی بنیادی ضرورت ہے۔ قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ دونوں میں تاخر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر اُبھر تے ہیں۔ بحرکا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا، یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔

    غزل کا پہلا مصرع جذبے یا کیفیت کے ساتھ خود بخود ذہن سے گنگنا تا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر معین ہو چکی ہے، قافیہ بھی معین ہو چکا ہے ، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی غزل کی ہئیت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجازو اختصادر رمز و کنایہ‘مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لیے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو سخنِ مختصر کی خصوصیات ہیں۔ غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکار انہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے جو سرشت انسانی کی وحدت اور جبّلتوں کی یکسائی پر مبنی ہے۔ اور یہ عُمومیت ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔

    غزل کے فن سے متعلق اختر سعید خاں کا خیال ہے’’ غزل کا فن نرم آنچ سے جلاپاتا ہے‘ بھڑکتے ہوئے شعلوں سے نہیں۔ قدیم غزل ہو یا جدید اس کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ وہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتی ہے‘اونچی آواز میں نہیں بولتی ‘اس ک اکمال گویائی برہنہ حرفی نہیں ‘پیام زیرلبی ہے۔ غزل کا فن نہ سینہ کوبی ہے نہ قہقہہ لگانا۔ وہ ایک آنسو ہے پلکوں پر ٹھہراہوا‘ایک تبسم ہونٹوں پر پھیلا ہوا۔ کبھی اس کے تبسم میں اشکوں کی نمی ہوتی ہے اور کبھی اشکوں میں تبسم کی جھلک۔‘‘

    غزل کے فن سے متعلق لکھا ہے’’ غزل کا فن دراصل رمزیت اور ایمائیت کا فن ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کے مقبلہ میں غزل اپنے فن کی اسی جاذبیت کی وجہ سے ممتاز رہی ہے۔  غزل کی تبدیلیوں سے متعلق حامد کا شمیری نے اپنی تصنیف’ اردو تنقید (منتخب مقالات‘ میں الطاف حسین حالی کے نظریات پیش کیے ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تخّیل کا ذکر ہے جس میں سب مقدّم اور ضروری چیزہے۔ جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔ اس کے بعد تخّیل کی تعریف کے تحت تخیل یا امیج نیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے ۔جیسے کہ شعر کی تعریف اور اس کی وضاحت کی ہے۔ د

    وسری شرط کائنات کا مطالعہ بتا ہے ۔ جس میں اگر قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کی شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہوا سی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتے ہیں۔لیکن شاعری میں کمال فطرتِ انسانی کا ’مطالعہ‘ نہایت غور سے کیا جائے۔ تیسری شرط تلفظ الفاظ کی بیان کی گئی ہے۔ جس میں کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے خاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔

    دوسرا مطالعہ بھی ویا ہی ضروری اور اہم جیسا کہ پہلا۔ان اصولوں سے متعلق چند ضروری باتیں ہیں جن کا خیال رکھانا چاہیے۔ ’’ شعر کے وقت ضروری ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اوّل خیالات کو صبر و تحّمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاط سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منظم کرنا کہ صورۃ اگر چہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشر طیکہ شاعر ہو اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرورکرتا ہے اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘

    ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے مشرقی میں المیہ کی معنویت کی وضاحت غزل کی روح سے کیا ہے۔کیوں کے غزل کے جذبہٗ غم کو مغربی ادب کی ٹریجیڈی (المیہ) کے مساوی قراردیا ہے۔کیوں کہ لفظ غزل کے ایک معنی اس دل گداز چیخ کے ہیں جو شکاری کے طویل تعاقب، اس کے خوف اور تھکن سے گرپڑنے والے ہرن کے حلق سے نکلتی ہے۔ جس کی تاثیر سے شکاری کتا ہرن کو پاکر بھی اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔

    غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

    ہیئتی توارث فارسی غزل کی فکری ،

    جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر 

    عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔ 

    See less
    • 0
Sajid
  1. نذیر احمد کی پوری ناول ان کے اپنے زمانے کی سماجی تقاضوں اور سماجی مسائل کا نتیجہ تھی۔ اس لیے نذیر احمد کے ناولوں میں ہم کو اس زمانے کی سماجی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں ہندوستان کی سیاسی، سماجی، علمی اور ذہنی زندگی میں ایک بڑا انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے آثار اس صدی کے آغاز سےRead more

    نذیر احمد کی پوری ناول ان کے اپنے زمانے کی سماجی تقاضوں اور سماجی مسائل کا نتیجہ تھی۔ اس لیے نذیر احمد کے ناولوں میں ہم کو اس زمانے کی سماجی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں ہندوستان کی سیاسی، سماجی، علمی اور ذہنی زندگی میں ایک بڑا انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے آثار اس صدی کے آغاز سے ہی نظر آنے لگے تھے۔ لیکن ۱۸۵۷ء کی ناکام جدوجہد نے گویا ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی زندگی کا خاتمہ ہی کر دیا اور نئے اثرات کے لئے راہ کھول دی۔ اس صدی کے نصف آخر کے ابتدائی چند سال دراصل عبوری زمانے کی حیثیت رکھتے ہیں اس عبوری دور میں مختلف سماجی مسائل ابھر کر سامنے آنے لگے تھے اور پیچیدہ مسائل کا حل ڈھونڈا جا رہا تھا۔ قومی مصلحین نے اس زمانے میں پرانی طرز زندگی کو بدلنے کی کوشش کی جس میں نذیر احمد نے بھی اپنے ناولوں کے ذریعے بہت کچھ حصہ لیا۔ اس سلسلے میں قوم کے مصلحین نے اس بات کی کوشش کی کہ سیاسی، تبدیلی سے سماج کو ہم آہنگ بنا دیا جائے ۱۸۵۷ء کے سانحے کے پہلے بھی کچھ دانشور قوم کی قدامت پرست روش کو بدلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جسکی وجہ سے ہندوستانی سماج کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ تعلیم کو عام نہ کیا جائے اور خاص طور سے ہندوستانیوں کے ذہن کو انگریزی تعلیم سے مانوس نہ بنایا جائے راجہ رام موہن رائے اور سرسید احمد خان کی یہ متفقہ کوشش تھی کہ ہندوستانی تعلیم کے ذریعے اپنی اصلاح کریں۔ غدر کے بعد ہندوستانی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے علی عباس حسینی لکھتے ہیں:

    ’’۔ ۔ ۔ اردو قصہ گوئی ابھی غیر فطری ہی تھی کہ سیاسیات نے ادب میں رخنے ڈالنا شروع کر دیا۔ فورٹ ولیم کالج کا دارالترجمہ بند ہوا۔ ملکی زبان میکالے کی مشرق ناشناسی کی بدولت ذریعہ تعلیم بننے سے محروم کی گئی۔ اسکولوں اور کالجوں میں انگریزی بولی اور اپنی زبان چھوڑی جانے لگی۔ مولوی اور پنڈت دونوں بھڑک اٹھے اور انھوں نے مغربی تعلیم کو ناجائز اور انگریزی زبان کو ناپاک قرار دیا۔ غیر مسلموں کو راجہ رام موہن رائے کی سی شخصیت نے درمیان میں آ کر منا لیا مگر مسلمان تھوتھائے ہی رہے ‘‘۔

    آگے وہ ہندوستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    ’’پھر بھی فورٹ ولیم کالج کی دیکھا دیکھی کچھ شدید شروع ہو گئی تھی کہ دفعتہً اردو قصہ گوئی کے نئے مرکز لکھنؤ کا الحاق پیش آیا۔ نواب واجد علی شاہ مٹیا برج تشریف لے گئے۔ معزول بادشاہ نے ملکہ وکٹوریہ کے حضور میں اپیل بھیجی۔ اسکے جواب نے ابھی کوئی صورت اختیار نہیں کی تھی کہ ۱۸۵۷ء کا غدر ہو گیا۔ ۔ ۔ بہت سے لوگ مارے گئے۔ ہزاروں خاندان تباہ ہوئے۔ مغل بادشاہ رنگون بھیجا گیا۔ دلی اجڑ گئی، لکھنؤ برباد ہوا اور کلکتہ آباد کمپنی کی حکومت ختم اور ملکہ کی فرماں روائی شروع ہوئی ایک جانب تو حاکموں نے سارے فساد کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھا۔ دوسری طرف شریعت اسلامی کے خود ساختہ حاملوں کا یہ فتویٰ باقی رہا کہ انگریزی تعلیم ناجائز ہے اور ملازمت سرکاری حرام، خدا بھلا کرے سرسید اور ان کے ساتھیوں کا کہ انھوں نے قومی خطرے کی صحیح نباضی کی۔ ۔ ۔ مسلمانوں نے انگریزی بھی پڑھی اور سرکاری ملازمت بھی کی۔ ‘‘

    سرسید کی اصلاحی تحریک اور نذیر احمد

    سرسید کے دیگر رفقائے کار کی طرح نذیر احمد بھی ان کی اصلاحی تحریک کے حامی اور پیرو تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مذہب کا رسمی اور رواجی پہلو سماجی زندگی کا آئین بن گیا تھا۔ راجہ رام موہن رائے اور سرسید نے سب سے پہلے ہندوستانیوں کی مذہبی اصطلاح کی کوشش کی سرسید نے اپنے اصلاحی مشن کو چلانے کے لئے ادب کا سہارا بھی لیا۔ اس کے بغیر وہ اپنے اصلاحی خیالات کی تشہیر نہیں کر سکتے تھے لیکن اس وقت خود اردو زبان میں نئے خیالات کے اظہار کے مناسب سانچے نہیں تھے اس لئے سرسید اور انکے رفقائے کار نے اظہار کے نثری اسلوب کی اصلاح کی اور نئے سانچے بھی تیار کئے اس طرح زبان اور ادب کی بھی اصلاح ہوئی زبان اور ادب کی یہ اصلاح علم کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لئے ضروری تھی اور علم کے حصول کے لئے تعلیم ناگزیر تھی لہذا سرسید نے اپنی اصلاحی جد و جہد میں اصل ضرب خرابی کی جڑ پر لگائی۔ انھوں نے دیکھا کہ سماجی خرابیوں کا یہ تناور درخت جہالت اور مفلسی کی جڑوں سے غذا پاکر ملک و قوم کی قسمت پر تاریکی کا سایہ پھیلا رہا ہے۔ اس تاریکی کو دور کرنے کے لئے سرسید اور ان کے تمام رفقا تعلیم کی روشنی پھیلانے میں جٹ گئے اور تحریک کو بڑھانے میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ نذیر احمد نے بھی اس سلسلے میں ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیئے۔ ان کی ناول نگاری ہندوستان کی سماجی اصلاحی تحریک کی ایک بے حد موثر اور نتیجہ خیز صورت ہے۔
    مراۃ العروس

    نذیر احمد کی ناول نگاری کی ابتداء ہی سماجی مسائل کے حل کے لیے ہوئی ہندوستان میں جب تعلیم کو عام کرنے کی تحریک چلی تو تعلیم نسواں کا سوال بھی درپیش ہوا کیونکہ اس کے بغیر سماج کی قرار واقعی اصلاح نہیں ہو سکتی تھی۔ عورت صرف بیٹی بہن یا بیوی نہیں ہوتی بلکہ ماں بھی ہوتی ہے۔ ماں سے ہی بچے کو دنیا کی پہلی تعلیم ملتی ہے اگر وہی جاہل اور ان پڑھ رہے جائے تو بچے کی شخصیت کی تعمیر میں خرابی کی کئی صورتیں مضمر رہ سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ نسوانی تعلیم کی ضرورت گھر اور ازدواجی زندگی کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بیوی کی وجہ سے گھر جنت بھی بن سکتا ہے اور جہنم بھی۔ نذیر احمد مراۃ العروس میں اسی مسئلے کو پیش کرتے ہیں کہ ایک پردے میں بیٹھنے والی عورت بھی کسطرح سماجی زندگی میں خاموش مگر بے حد اہم خدمات انجام دیتی ہے ان کے سامنے عورتوں کی تعلیم کا مسئلہ اہم بن کر آیا۔ وہ خود اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے تھے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوئی موزوں کتاب نہ تھی جس سے مسلمان گھرانوں کی لڑکیاں دلچسپی سے پڑھ کر اپنی علمی استعداد کو بڑھا سکیں۔ اس وقت تک اردو میں جتنے قصے اور کہانیاں تھیں وہ سب کی سب حسن و عشق سے پر تھیں۔ ہر داستان کا ہیرو ایک بادشاہ شہزادہ یا امیر زادہ ہوا کرتا تھا جس کو عیش کوشی اور لذت پرستی کی ساری سہولتیں حاصل تھیں۔ یہ داتا مسلم گھرانوں کی لڑکیوں کے لئے مخرب اخلاق ثابت ہو سکتی تھیں۔ لڑکیوں کے معصوم اور سادہ ذہن پر ان کے غلط طور سے اثر انداز ہونے کا امکان تھا اور اسکے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو تعلیم دینے کا جو امکانی فائدہ تھا وہ اس طرح کی کتابوں کو پڑھنے سے نہ صرف فوت ہو سکتا تھا بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا تھا اس لئے نذیر احمد نے خود ایک قصہ ناول کے روپ میں لکھا جو ان کو نہ صرف تعلیم دے بلکہ ان کی تربیت بھی کرے چنانچہ وہ مراۃ العروس کے دیباچے میں لکھتے ہیں :
    ’’اس ملک میں مستورات کے پڑھنے کا رواج نہیں مگر پھر بھی بڑے شہروں میں خاص خاص شریف خاندان کی عورتیں قرآن شریف کا ترجمہ مذہبی مسائل کے اردو رسالے پڑھ لیا کرتی تھیں۔ میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میں دلی کے ایک ایسے ہی خاندان کا آدمی ہوں۔ خاندان کے دستور کے مطابق میری لڑکیوں نے بھی قرآن شریف اور اردو کے رسالے گھر کی بوڑھی عورتوں سے پڑھے۔ گھر میں رات دن پڑھنے لکھنے کا چرچا رہتا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ ہم مردوں کی دیکھا دیکھی لڑکیوں کو بھی علم کی طرف ایک طرح کی خاص رغبت ہے۔ لیکن اسکے ساتھ مجھ کو یہ بھی معلوم تھا کہ جو مضامین بچوں کے پیش نظر رہتے ہیں ان میں ان کے دل افسردہ، ان کی طبیعتیں منغض اور ذہن کند ہو جاتے ہیں۔ تب مجھ کو ایسی کتاب کی حاجت ہوئی جو اخلاق و نصائح سے بھری ہوئی ہو اور ان معاملات میں جو عورتوں کی زندگی میں پیش آئے ہیں اور عورتیں اپنی جہالت اور توہمات کی وجہ سے ہمیشہ ان میں مبتلا رنج و مصیبت رہا کرتی ہیں۔ ان کے خیالات کی اصلاح اور ان کی عادات کی تہذیب کرے اور کسی دلچسپ پیرائے میں ہو جس سے ان کا دل نہ اکتائے، طبیعت نہ گھبرائے مگر تمام کتاب خانہ چھان مارا ایسی کتاب کا پتہ نہ ملا تب میں نے اس قصے کا منصوبہ باندھا‘‘۔

    نذیر احمد صرف عورتوں کے لئے اخلاق و نصائح سے بھری ہوئی کتاب لکھنا چاہتے تھے جو ان کے خیالات کی اصلاح اور انکے عادات کی تہذیب کرے ایسی کتاب لکھنے کا منصوبہ باندھنے کے لئے ان معاملات کو پیش کرنا ہی ضروری تھا جو عورتوں کی زندگی میں پیش آتے ہی۔ اصل میں یہی وہ چیز ہے جس کی پیش کش نے نذیر احمد کو اردو کا پہلا ہی نہیں بلکہ احتشام حسین کے الفاظ میں بہت اہم ناول نگار بنا دیا ورنہ نذیر احمد ایک واعظ ناصح بن کر رہ جاتے وہ لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے تھے اسکے ساتھ ہی ساتھ اسلامی اور دینی سماجی تربیت بھی ان کے پیش نظر تھی اور وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ انکی باتیں دلچسپ اور موثر ہوں۔ وہ جانتے تھے کہ ہر انسان میں تنقید کا مادہ ہوتا ہے ایک انسان دوسرے ہی کو دیکھ کر سب کچھ سیکھتا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں انسانی زندگی کے نمونے پیش کئے ہیں چونکہ ابتداء میں لڑکیاں اور عورتیں انکی مخاطب تھیں اس لئے انھوں نے زیادہ تر عورتوں کی زندگی کے نمونے پیش کئے ہیں۔ اس طرح نذیر احمد کو ہمارے شریف گھرانوں کی سماجی زندگی کی عکاسی کو موقعہ ہاتھ آگیا۔
    مراۃ العروس میں عورتوں کے ہی کردار نمایاں ہیں۔ اصغری پورے ناول پر چھائی ہوئی ہے کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اصغری کے کردار کو مثالی اور اہم بنانے کے لئے نذیر احمد نے ایسے متوسط مسلم گھرانے کو پیش کیا ہے۔ جس میں کئی خرابیاں تھیں۔ مسلم گھرانے کی تصویر پیش کرنے پر نذیر احمد پر اعتراض بھی کیا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ علاوہ دوسرے کے سر سید جیسے آدمی بھی مراۃ العروس پر معترض ہوتے ہیں۔ اسکا حال ہم کو حیات جاوید میں حالی کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے :
    ’’جب مراۃ العروس پہلی بار چھپ کر شائع ہوئی تو جو نقشہ اس میں عورتوں کی اخلاقی حالت کا کھینچا گیا تھا اس کو دیکھ کر سر سید کو نہایت رنج ہوا تھا وہ اسکو سلمان شرفا کی زنانہ سوسائٹی پر ایک قسم کا اتہام خیال کرتے تھے ‘‘۔

    لیکن حالی ہی کے بیان سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ خود سرسید پہ یہ اعتراض تھا کہ انھوں نے عورتوں کی اصلاح پر اور تعلیم پر کوئی خیال نہیں کیا حالانکہ انکی زندگی کا اہم ترین مقصد علم اور تعلیم کی اشاعت تھا۔ عورتوں کی تعلیم کی طرف سے لاپروائی کی وجہ یہ تھی کہ وہ عورتوں کی صحیح حالت سے واقف نہ تھے حالی سرسید کی اصلاحی تحریک کی اس کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے ان کی حمایت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب اس بات کا یقین ہو کہ کوئی کمزوری ہے ہی نہیں تو کمزوری کو دور کرنے کا کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے وہ سرسید پر کئے گئے اعتراض کو بیان کرتے ہوئے اس کا جواب دیتے ہیں :
    ’’سرسید نے جس قدر کوشش کی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اور لڑکیوں کی تعلیم پہ کبھی ہاتھ نہیں ڈالا یہاں تک کہ لوگوں نے ان کو تعلیم نسواں کا مخالف تصور کیا اگرچہ ہمارے نزدیک اصل سبب تعلیم نسواں کی طرف توجہ نہ کرنے کا یہ تھا کہ اول تو جب سے ان کو مسلمانوں کی شوسل ریفارم کا خیال پیدا ہوا تو اس وقت سے وہ آخر دم تک وہ فیملی سوسائٹی سے بالکل علیٰحدہ رہے۔ غدر کے چند روز بعد ان کی والدہ اور بی بی کا انتقال ہو گیا اور دہلی کی آمدورفت بالکل موقوف ہو گئی۔ اگرچہ زنانہ سوسائٹی کی حالت سے وہ بے خبر نہ تھے مگر جو فیلنگ اس سوسائٹی میں رہ کر اور ہر وقت آنکھ سے انکی حالت دیکھ کر ایک ذکی الحس آدمی کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے وہ صرف سنی سنائی یا کبھی کبھی دیکھی ہوئی باتوں سے ہرگز پیدا نہیں ہو سکتی‘‘۔

    حالی آگے چل کر بتاتے ہیں کہ سرسید کا زنانہ سوسائٹی کے متعلق کیا خیال تھا اسکے اسباب کیا تھے وہ لکھتے ہیں :
    ’’دوسرے ان کے حالت انکی فیملی سوسائٹی کی حالت بہ نسبت اکثر خاندانوں کے بہت عمدہ تھی انکے خاندان کی عورتوں سے میری اکثر رشتہ داری عورتوں کو ملنے کا اتفاق ہوا ہے جو ان کے اخلاق و عادات، لیاقت و سنجیدگی کی حد سے زیادہ تعریف کرتی ہیں۔ خود سر سید نے ایجوکیشن کمیشن میں اور اپنی متعدد اسپیچوں میں اپنے خاندان کی عورتوں کو لکھے پڑھے ہونے کا حال بیان کر کے اس خیال کی تردید کی ہے کہ مسلمان عورتیں عموماً جاہل ہوتی ہیں ‘‘۔

    یہاں حالی نے بڑی عمدگی سے یہ بات ظاہر کر دی ہے کہ مراۃ العروس پر سید کا اعتراض حالات سے ان کی ناواقفیت کی بنا پر تھا حالی اپنے ذاتی تجربے کی بناء پر بتاتے ہیں کہ مسلم زنانہ سوسائٹی کی حالت حقیقت میں وہی تھی جس کو نذیر احمد نے پیش کیا تھا اور یہ واقعہ ہے کہ نذیر نے مسلم متوسط گھرانے کا نقشہ اس خوبی اور عمدگی سے کھینچا ہے کہ آج بھی بعض قدیم وضع کے پابند گھرانوں میں ان کے ناولوں کی پیش کی ہوئی مثالوں کا مل جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔
    نذیر احمد بڑی فنکارانہ چابکدستی سے ہندوستان کے مسلم معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مراۃ العروس ایک متوسط طبقے کی اندرونی زندگی کا آئینہ خانہ ہے۔ اس ناول کے دو کردار اکبری اور اصغری دو مختلف تصویریں پیش کرتے ہیں۔ اکبری کے کردار سے ساس بہو کے جھگڑے اور جاہل اور انپڑھ عورتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھریلو بدمزگیاں بڑی خوبی سے دکھائی گئی ہیں اسکے کردار کے ذریعے عورتوں کے مختلف شوق اور مشغلے ان کی توہم پرستی ان کے لڑنے جھگڑنے کے طریقے، جھگڑوں کے چھوٹے موٹے واقعات جو، بعض وقت گھریلو زندگی کو تباہ کر سکتے ہیں بڑی عمدگی سے بیان کئے گئے ہیں۔ غرض اکبری کے کردار میں عورتوں کے مزاج کا وہ پہلو جو غصہ، برہمی اور جھگڑالو پن سے عبارت ہے نمایاں اور عورتوں کی کمزوریوں اور جذبات کی پیش کیا گیا ہے۔ اس کردار کے متعلق علی عباس حسینی لکھتے ہیں :
    ’’اکبری میں مصنف کی خواہش کے علی الرغم اصغری سے زیادہ جذب ہے وہ الھڑ بے پرواہ ہے، بد سلیقہ، فضول خرچ ہے، صحبت ارذال میں بیٹھنے والی ہے لیکن وہ صاحب دل ہے اس کو غصہ بھی آتا ہے وہ کوستی کاٹتی بھی ہے، طعنے بھی دیتی ہے ہنستی بھی ہے، روتی بھی ہے۔ اسی لئے ہمیں اس سے زیادہ ہمدردی ہوتی ہے اور ہمارا جی چاہنے لگتا ہے اگر ہم کاتب تقدیر ہوتے تو ہم اتنی تکلیفوں کے بعد اس کے دن ضرور پھیر دیتے ‘‘۔

    حسینی نے جس بات کو مصنف کی خواہش کے علی الرغم قرار دیا ہے تجزیہ کرنے پر وہی بات نذیر احمد کے دل کی معلوم ہوتی ہے۔ یعنی ان کی خواہش کے عین مطابق قاری کو اکبری سے ہمدردی ہوتی ہے اور وہ اکبری کے کردار سے متاثر ہوتا ہے جو اکبری کی چھوٹی بہن ہے۔
    محمد احسن فاروقی نے اپنے مضمون ’’مولوی نذیر احمد کی تمثیلی افسانے ‘‘ میں اصغری کے کردار کا نقشہ بڑی خوبی کے ساتھ کھینچا ہے۔ اس سے نذیر احمد کے اصلاحی جذبے کی جہت اور نیت بھی متعین ہو جاتی ہے۔
    ’’اصغری کی شادی ہونے والی ہے تو اس کا باپ دور اندیش خاں ایک طویل خط اس کو بھیجتا ہے جو پند و نصائح سے بھرا ہوا ہے۔ سسرال میں آ کر اصغری پہلے تمام حالات سے آگاہی حاصل کرتی ہے اور اپنی نند محمودہ کو جسے اکبری مارا کرتی تھی۔ اپنا جاسوس بنا لیتی ہے۔ یہ نوکرانی ماما عظمت کے پورے طور پر قابو میں پاتی ہے۔ یہ نوکرانی ہر طرح خرچہ بڑھائے ہوئے ہے اور بازار والوں کا قرضہ چڑھائے چلی جاتی ہے۔ نہایت ہوشیاری کے ساتھ اصغری اس پر قابو پاکر اسے نکال دیتی ہے۔ سب قرضہ ادا کر دیتی ہے اور پھر ماما دیانت کو ملازم رکھ کر نہایت سلیقے سے گھر چلاتی ہے۔ پھر اصغری نے گھر میں ایک مکتب بنا رکھی ہے جہاں طرح طرح کی لڑکیوں کو تعلیم دینے میں اس کا وقت صرف ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے رئیس گھرانوں سے بھی تعلق بڑھائے ہیں اور اپنی نند محمودہ کی شادی ایک اونچے گھرانے میں کرا دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس شادی کے لئے کافی روپیہ فراہم کرنے میں بھی وہ اعلیٰ سلیقہ دکھاتی ہے۔ پھر وہ مسجدیں بنواتی ہے بازار لگواتی ہے اور اپنے عزیزوں کو ٹھیک روزگار سے لگواتی ہے۔ ہاں بچوں کے سلسلے میں وہ نامراد ہے جس پر اس کے والد کا ایک طویل خط اس کو راضی برضائے خدا کر دیتا ہے وہ تمیزداری کی مکمل عین تصویر ہے اور خانہ داری کے ہر مہرام کو سلیقے سے برتنے کے لیے اس کی ہر حرکت مشعل راہ ہو سکتی ہے ‘‘۔

    اردو ناول میں مراۃ العروس کی اہمیت ایک اور وجہ سے بھی ہے وہ یہ کہ اس میں نذیر احمد نے بڑی چابکدستی سے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بدلتے ہوئے سماج کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی تلقین کی ہے۔ تعلیم کی ضرورت تو ہر صفحہ سے ظاہر ہے۔ مثال کے طور پر محمد کامل کو عربی آتی ہے لیکن وہ حساب نہیں جانتے اس لئے انہیں نوکری نہیں مل سکتی اس پر اصغری اسکول کی تعلیم اور حساب کی ضرورت کے متعلق محمد کامل سے کہتی ہے :
    ’’پڑھنا لکھنا اس واسطے ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس کا نہ رہے۔ بڑے بھائی بھی عربی فارسی پڑھے ہیں لیکن نوکری نہیں ہے ابا کہتے ہیں کہ حساب کتاب اور کچہری کا کام جب تک نہ سیکھو گے نوکری کا خیال مت کرو‘‘۔

    دوسری جگہ درباروں کی تباہی اور انگریزی حکومت کے تلسط کا ذکر محمد کامل اور اصغری کے مکالمے کی صورت میں یوں آیا ہے :
    ’’محمد کامل نے کہا : پھر کیا کروں، لاہور چلا جاؤں۔

    اصغری : لاہور میں کیا دھرا ہے ؟ وہیں کی سرکار خود تباہ ہے۔ ابا جان کو بھی نہیں معلوم، پہلے کا لحاظ مان کر وہ کسی طرح پچاس روپیہ دیتا ہے نئے آدمی کی گنجائش اس کی سرکار میں کہاں ؟

    محمد کامل : اور بہت سرکاریں ہیں۔

    اصغری : جب سے انگریزی علمداری ہوئی سب رئیس ایسے ہی تباہ ہیں پچھلے نام و نمود کو نبھاتے ہیں۔

    محمد کامل : پھر کیا علاج ؟

    اصغری : انگریزی نوکری تلاش کرو‘‘۔

    بنات النعش

    نذیر احمد کے دوسرے ناول نبات النعش کو مراۃ العروس کا تکملہ کہنا غلط نہ ہو گا۔ اسکے اہم اور مرکزی کردار مراۃ العروس ہی ہے کردار ہیں۔ نبات النعش کا موضوع اور مشمولات کی وضاحت افتخار عالم نے اس طرح بیان کی ہے :
    ’’اس کتاب کو مراۃ العروس کا حصہ دوم کہنا چاہیئے۔ اس کتاب کی بھی وہی بولی ہے، وہی طرز تحریر ہے۔ مراۃ العروس سے تعلیم اخلاقی اور تربیتِ خانہ داری مقصود تھی اس میں بھی موضوعات کا کافی طور پر اعادہ کیا گیا ہے ‘’۔

    آگے چل کر افتخار عالم لکھتے ہیں :
    ’’اصغری خانم جس کی سلیقہ شعاری اور سگھڑ پنے کا ذکر مراۃ العروس میں ہے۔ شوقیہ لڑکیوں کو پڑھایا کرتی تھیں اس مکتب میں حسن آزاد بیگم نے جو اس کتاب کی ہیروئن ہیں تعلیم پاتی ہیں۔ حسن آرا کے مزاج کی افتاد ایسی تھی کہ اپنے ہی گھر میں سب سے بگاڑ تھا نہ ماں کا ادب نہ آپا کا وقار نہ باپ کا ذکر نہ بھائیوں کا لحاظ نوکر ہیں کہ آپکے نالاں ہیں لونڈیاں ہیں کہ الگ پناہ مانگتی ہیں غرض حسن آرا سارے گھر کو سر پر اٹھائے رہتی ہے۔ اس بدسلیقہ لڑکی کی تعلیم و تربیت جس عمدہ طور پر ہوتی ہے وہ قابل دید ہے۔ حسن آرا کے بگڑے ہوئے عادات امیرانہ خیالات، لارڈ پیار کی وجہ سے ہٹ اور ضد دوسری لڑکیوں کی حقارت سے دیکھنے اور ان پر نام دھرنے اس قسم کی صدہا معائب کی اصلاح نہایت خوش اسلوبی سے اصغری خانم نے کی۔ پڑھنے لکھنے کا شوق اسکے دل میں پیدا کیا۔ باتوں باتوں میں اخلاقی مضامین کی باتیں میل جول کے طریقے، نیکی اور سچی خیرات ہم جولیوں کا پاس ادب حساب کی دلچسپ باتیں، زمین کی کشش، وزن، مقناطیس، زمین کی ہیئت اور حرکت زمین کے گول ہونے کی دلیل ریاضت زمین کی جسامت اور تقسیم، تمدن کی وجہ، شہر و دیہات کی آب و ہوا سب کچھ سمجھا دیا ہے۔ یہ کتاب فی نفسہ ایک عود سور العمل ہے۔

    توبۃ النصوح
    مراۃالعروس اور نبات النعش کے بعد نذیر احمد نے توبۃ النصوح لکھی یہ کتاب دونوں کتابوں سے مختلف ہے۔ مراۃ العروس اور نبات النعش میں ناول نگاری کی مخاطب لڑکیاں تھی ان دونوں ناولوں میں نذیر احمد نے خانگی زندگی میں عورتوں کی قدر و قیمت، خود مرد کی زندگی کو بنانے اور سنوارنے میں ان کے کردار کی اہمیت بیان کی ہے۔ توبۃ النصوح کا موضوع بھی گھریلو زندگی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار جیسا کہ ناول کے نام سے ظاہر ہے نصوح ہے۔ نصوح ایک خواب دیکھتا ہے جو اسکی زندگی کی کایا پلٹ دیتا ہے اور نصوح کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس خواب سے پہلے لیکن نصوح کی زندگی مذہب اور اخلاقی سے بڑی بے گانہ تھی جس کی وجہ سے گھر کا گھر غلط راہوں پر چل پڑا تھا۔ خصوصاً نصوح کا بڑا لڑکا کلیم اور بڑی لڑکی نعیمہ گھر کی مرکزیت کی وجہ سے اتنے خود سر ہو گئے تھے کہ انجام کار تباہ ہو گئے۔
    نصوح خواب سے بیدار ہوتے ہی گھر کے دوسرے افراد کو خوابِ غفلت سے جگانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بہت جلد اسے محسوس ہوتا ہے کہ بچے بڑے ہو جائیں تو پھر انکی اصلاح و تربیت شکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتی ہے۔ نذیر احمد توبۃ النصوح کے دیباچے میں اپنے مقصدِ اصلی کو یوں ظاہر کرتے ہیں کہ:
    ’’اس کتاب میں انسان کے اس فرض کا مذکور ہے جو تربیت اولاد کے نام سے مشہور ہے اس کتاب کی تصنیف کرنے سے مقصدِ اصلی یہ ہے کہ اس فرض کے بارے میں جو غلط فہمی عموماً عام لوگوں سے واقع ہو رہی ہے اسکی اصلاح ہو‘‘۔

    پھر اس فرض کے بارے میں عام طور سے جو غلط فہمی پائی جاتی ہے اسکی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    ’’تربیت اولاد صرف اس کا نام نہیں کہ پال پوس کر اولاد کو بڑا کیا روٹی کما کر کھانے کا کوئی ہنر ان کو سکھا دیا ان کا بیاہ پرات کر دیا بلکہ انکے اخلاق کی تہذیب کی تصحیح بھی ماں باپ پر فرض ہے۔ افسوس ہے کتنے لوگ اس فرض سے غافل ہیں۔ ‘‘

    نذیر احمد کا ناول فنی اعتبار سے اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس سے ہٹ کر نذیر احمد نے جو باتیں لکھی ہیں وہ بجائے خود اتنی اہمیت رکھتی ہیں کہ ان سے مولانا کے خیالات، تصورات، مذہبی و اخلاقی وسیع النظری، ان کی انسان پرستی اور خلوص کا پتہ چلتا ہے اور ان تمام کے پس منظر میں ناولوں کو سمجھے میں مدد ملتی ہے۔
    توبۃ النصوح لکھنے کا ایک مقصد تو تربیت اولاد تھا لیکن ان کا اور مقصد اخلاق اور مذہب کو اہمیت کو واضح کرنا بھی تھا۔ احتشام حسین کے الفاظ میں :
    ’’توبۃ النصوح میں مذہبی اور اخلاقی مسائل کو خانگی کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔ ‘‘

    نذیر احمد نے مذہبی اور اخلاقی مسائل کو نہ صرف خانگی زندگی کے پس منظر میں پیش کیا ہے بلکہ زیادہ وسعت دے کر اپنے زمانے کی سماجی، سیاسی اور معاشرتی زندگی کے پس منظر میں بھی رکھا ہے۔ اس ناول میں نذیر احمد نے بڑی عمدگی سے ظاہر کیا ہے کہ کس طرح مذہب اور اخلاق کے خانگی مسائل سماجی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ توبہ کے بعد نصوح کی سماجی زندگی کسطرح بلند ہوتی ہے اور کلیم جب مذہب اور اخلاق سے بیگانگی اختیار کرتا ہے تو کسطرح سماج میں اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔
    نذیر احمد نے صرف یہی نہیں بتایا کہ کلیم کی اخلاقی کمزوری کس طرح اسکی سماجی حیثیت کو ختم کرتی ہے۔ بلکہ انہوں نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اخلاق اور مذہب فرد تک محدود نہیں۔ نصوح کی غفلت اور لاپرواہی نے خاندان کو غلط راستہ اختیار کرنے پر مائل ہوئے۔ مذہب اور اخلاق سے بے گانگی کا ایک نتیجہ ظاہر دار بیگ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سماجی زندگی کھوکھلی ہو جاتی ہے اور اس میں ظاہر داری، خوشامد، جھوٹ، دھوکے بازی، محبت و خلوص کا فقدان اور انسانیت اور انسانی ہمدردی کی کمی جیسی خرابیاں آ جاتی ہیں۔ سماجی زندگی کا یہ کھوکھلا پن مذہب اور اخلاق کی ٹھوس اقدار سے بے تعلقی کی وجہ سے نمو پاتا ہے۔ ظاہر دار بیگ کا کردار ان تمام باتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. نظم طلوع اسلام کی تشریح طلوع اسلام علامہ اقبال کے پہلے اردو شعری مجموعے ”بانگ درا“ کی آخری نظم ہے۔ اس نظم کو انہوں نے ١٩٢٢ء میں تخلیق کیا ہے۔ اس نظم سے قبل اقبال نے ایک بہت ہی اہم نظم ”خضر راہ“ لکھی تھی جب 1918 میں خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی اور اقبال نے 1919 میں خضر راہ لکھی جب کہ عالم اسلام مایوسیRead more

    نظم طلوع اسلام کی تشریح

    طلوع اسلام علامہ اقبال کے پہلے اردو شعری مجموعے ”بانگ درا“ کی آخری نظم ہے۔ اس نظم کو انہوں نے ١٩٢٢ء میں تخلیق کیا ہے۔ اس نظم سے قبل اقبال نے ایک بہت ہی اہم نظم ”خضر راہ“ لکھی تھی جب 1918 میں خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی اور اقبال نے 1919 میں خضر راہ لکھی جب کہ عالم اسلام مایوسیوں کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا‌، لیکن اس کے باوجود اقبال کو امید کی ایک کرن نظر آرہی تھی اور انہیں یقین کامل تھا کہ ایک دن ملت ضرور سر بلند ہوگی۔اس طرح اقبال کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی، ترک رہنما مصطفی کمال پاشا نے سقاریہ کی جنگ میں یونانیوں کو شکست دے دی اور مسٹر گلیڈسٹن کا غرور خاک میں ملا دیا ، تو اقبال خوشی اور مسرت سے سرشار ہو گئے۔ اس خوشی کا اظہار 1922 میں نظم طلوع اسلام لکھ کر کیا۔ اس نظم کے عنوان سے ہی یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ملت کے عروج کا سورج ایک بار پھر طلوع ہوتا ہوا نظر آیا۔ اقبال کا ہمیشہ رجائیت پر یقین رہا ہے اس لئے وہ رجائی شاعر کہلاتے ہیں، وہ کبھی مایوس اور ناامید نہیں ہوئے، لیکن اس نظم میں ان کی کچھ اور ہی کیفیت ہے۔ انہیں قوم و ملت کا کامرانی سے ہمکنار ہونا نظر آرہا ہے۔ اس لیے تمام کی تمام نظم مسرت و شادمانی کے جذبے سے مملو ہے۔ اب ہم اس نظم کے ایک ایک بند کی تشریح کی طرف بڑھتے ہیں۔

    اس نظم کا مرکزی خیال

    اس نظم کا مرکزی خیال خود اس کے عنوان میں پوشیدہ ہے، اس کا پہلا بند مسرت اور شادمانی کے جذبات سے معمور ہے بلکہ تمام کی تمام نظم میں یہی رنگ غالب نظر آتا ہے۔ اقبال نے ترک رہنما مصطفی کمال پاشا کی کامیابی کو ”طلوع اسلام“ سے تعبیر کیا ہے۔ ”خضر راہ“ میں کہیں نہ کہیں نا امیدی اور مایوسی آمیزہ جھلکتا ہے لیکن اس نظم میں اقبال کا دل اس یقین سے لبریز ہے کہ اگر قوم و ملت اپنے باطن میں ایمانی قوت کو پیدا کرلے تو وہ پھر ساری دنیا کو فتح کر سکتی ہے:

    ؀ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

    اس نظم کے کل نو بند ہیں۔ پہلے بند کا پہلا شعر ہی ان لفظوں میں عنوان کی وضاحت کردیتا ہے کہ ”افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی“ اسی بند میں تھوڑا آگے چل کر اس یقین کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:

    عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

    یعنی پہلے بند میں شاعر نے ملت کو ترقی اور کامرانی کی خوشخبری سنائی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ملت کس طرح اپنی قوت کی معرفت حاصل کر لیتی ہے۔ اس بند کا ایک مصرعہ اس طرح اس کی وضاحت کرتا ہے:

    ؀مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے

    دوسرے بند میں مصطفی کمال پاشا کو ’ترک شیرازی‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کی خدمت میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اس لیے انہوں نے یونانیوں اور مغربیوں کو شکست دے کر ملت کو سر بلند کر دیا تھا۔ یہ مشہور زمانہ شعر بھی اقبال نے پاشا کی شان میں کہا ہے:

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    اس نظم کے تیسرے بند میں اقبال نے ملت کو اس کی بے پناہ اور قوی صلاحیتوں سے آگاہ کیا ہے۔ اقبال نے مسلمان کو خدا کی زبان، خدا کا ہاتھ، خدا کا آخری پیغام اور اسی نسیت سے اسے جاوداں اور ایشیائی اقوم کا پاسبان اور رہنما ٹھہرایا ہے۔ اقبال نے ملت کو یہ تاکید کی ہے کہ تو اپنے ظاہر و باطن کو پاک کر کیوں کے جلد ہی تجھ سے دنیا کی امامت کا کام لیا جائے گا۔ اس کی وضاحت اس کلام کے ذریعے کی گئی ہے:

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

    اس نظم کا چوتھا بند اسی تیسرے بند کی تعلیم و تربیت کی وضاحت کرتا ہے کہ جہانگیری اور جہانبانی کے لیے صداقت، عدالت اور شجاعت کی تربیت ضروری ہے۔ اخوت، محبت، اتحاد، حیدری زوربازو، ابوزرغفاری کا فقر، صدیق اکبر کی صداقت اور شاہین کی طرح پرواز؛ یہ وہ اوصاف حمیدہ ہیں جو مرد مومن کے لیے ضروری ہیں۔ اقبال کہتے ہیں:

    مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
    وہ کیا تھا زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلمانی

    پانچویں بند میں بھی اسی خیال و جذبے کی توسیع کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ مسلمان کو مساوی حقوق کے سبق کو یاد رکھنا چاہیے۔ بندہ اور آقا میں امتیاز کرنا بربادی کا سبب ہے۔ لالچ اور ہوس جو دلوں میں بت تراش لیتی ہے۔ ان قومی، اونچ نیچ، ذات پات، فرقہ واریت کے بتوں کو توڑنا ضروری ہے۔ بالآخر اس بات پر زور دیا ہے کہ زندگی میں کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کے لیے نہ ٹوٹنے والا یقین، مسلسل جدوجہد اور اخوت و محبت درکار ہے۔

    یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

    نظم کا چھٹا بند خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ترکوں کی فتح و کامرانی کا بیان ہے۔ یہی وہ فتح تھی جس نے اقبال سے یہ معرکہ آرا نظم تخلیق کرائی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے خفیہ ساز باز اور امداد پا کر یونانی اس طرح ترکوں پر جھپٹے تھے جس طرح عقاب اپنے شکار پر جھبٹتا ہے۔ ان کے پاس آبدوز کشتیاں تھیں، ان کی فوجوں کے پاس لاسلکی نظام (وائرلیس) تھا، وہ جدید ترین اسلحہ سے مسلح تھیں لیکن ترکوں کی قوت ایمانی کے سامنے کچھ بھی کام نہ آیا اور انہیں شکست فاش ہوئی۔ اقبال اہل ایمان کی قوت مخصوصہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

    زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے!
    یہ خاکی زندہ تر پائندہ تر پابندہ تر نکلے!
    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
    اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

    ساتویں بند میں مسلمان سے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی مسلمان سے خطاب کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس طرح ترک اپنی قوت بازو کا اندازہ کر کے اندر آزاد اور سرخرو ہو گئے، اسی طرح تو بھی بری رسومات سے آزاد ہو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ تو پیغام خداوندی کو سمجھ لے، اپنی خودی کی معرفت حاصل کر یعنی اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان لے، زندگی کی جنگ میں فولاد کی صورت سخت جاں ہو جائے، معاملات مہر وفا میں ریشم کی طرح نرم ہو جائے اور فرقہ واریت، رنگ و نسل کے امتیاز کو فراموش کرکے اتحاد و اتفاق کا راستہ اختیار کرلے۔ اس بند کے چند مخصوص شعر یہ ہیں:

    خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
    نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

    مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
    شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

    گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
    گلستان راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا

    آٹھویں بند میں اقبال نے ملوکیت، سرمایہ داری، تہذیبِ مغرب اور سائنس کی ایجادات کو بیان کیا ہے جو دنیا کو تباہ کرنے کے لئے اسلحہ فراہم کرتی ہے۔ ان تمام کی انہوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور مسلمان کو یاد کرایا ہے کہ اصل زندگی وہ ہے جو اچھے اعمال پر مبنی ہے کیونکہ:

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    اس بند کا آخری شعر اور نواں بند فارسی میں اقبال نے تخلیق کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے مرد مسلمان آج دنیا تیرا پیغام سننے کے لیے گوش بر آواز ہے، اٹھ کھڑا ہو اس موقع کو غنیمت جان اور اپنی تعلیمات کو عام کر دے۔ آخری بند میں شاعر کے دل کی اضطرابی کیفیت اور جوش و جذبے کی فراوانی ہر لفظ سے پھوٹ پڑتی ہے۔ شاعر مسرت کے عالم میں جھوم رہا ہے کہ اجڑے گلشن میں پھر سے بہار آئی، آبشار پھر سے بہہ نکلے، خوش نوا پرندے ایک بار پھر سے نغمہ سنج ہو گئے۔یہ نغمے کیا ہیں؟ دراصل وہ پیغام ہے جو اس جہان رنگ و بو میں انقلاب برپا کر دے گا اور بلبل ہزار داستان کی نغمگی دوبارہ سے سنائی دینے لگی ہے۔ یہ بلبل ہزار داستان درحقیقت شاعراقبال ہے۔

    نظم کا فنی جائزہ:

    یہ نظم طلوع اسلام جو اقبال نے ترک رہنما مصطفی کمال پاشا نے جب یونانیوں پر فتح حاصل کی تھی 1922ء میں تب فرحت و خوشی کے عالم میں لکھی تھی۔ اگر اقبال کی اس نظم کو فنی اور جمالیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان کی بہت سی اہم نظموں میں سے ایک ہے۔ خیال رہے کہ ان کی یہ تخلیق ان کے شعری مجموعہ ”بانگ درا“ کی آخری نظم ہے جس کی اشاعت 1924 میں ہوئی تھی۔ ”بال جبریل“ اس زمانے کے بعد کا شعری مجموعہ ہے۔ جو پختگی ان کی نظم ”مسجد قرطبہ“ میں ہوں اس نظم میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود طلوع اسلام ایک اہم اور کامیاب نظم ہے۔ یہ نظم اقبال کے فکر و فن کے سفر میں سنگ میل سے کم درجہ نہیں رکھتی۔ یوسف سلیم چشتی کی رائے اس نظم کے حوالے سے یہ ہے:

    ” میری رائے میں بندش اور ترکیب، مضمون آفرینی اور بلند پروازی، رمزوکنایہ کی فراوانی اور مشکل پسندی، شوکت الفاظ اور فلسفہ طرازی غرضکہ صوری اور معنوی محاسن شعری کے اعتبار سے یہ نظم بانگ درا کی تمام نظموں پر فوقیت رکھتی ہے۔“

    اس نظم کی ایک خاص صفت ہے جو اس کو دیگر نظموں سے ممتاز کرتی ہے وہ مسرت انگیز کیفیت ہے جو آغاز سے اختتام تک نظم پر چھائی ہوئی ہے۔ درحقیقت یہ نظم کیف و سرور کے عالم میں تخلیق ہوئی ہے۔ پہلی جنگ عظیم 1914 سے لے کر 1922 تک ملت اسلامیہ پر بڑا برا وقت رہا ہے، اسی طرح دیگر ملک بھی مدت سے پریشانی کے عالم میں تھے۔ مدتوں کے بعد ملت اسلامیہ کے اقبال کا ستارہ فتح سمرنا کی شکل میں چمکا تو اقبال خوشی سے جھوم اٹھے، اسی عالم وجد میں یہ نظم انجام کو پہنچی ہے۔

    نظم کی ہیئت:

    اقبال کی پسندیدہ ہئیت ترکیب بند ہے۔ اقبال نے جس طرح اپنی بہت ساری دیگر نظموں کو ترکیب بند ہئیت میں تخلیق کیا ہے اسی طرح اس نظم طلوع اسلام کو بھی ترکیب بند ہیئت میں ڈھالا ہے۔ ترکیب بند میں متعدد بند ہوتے ہیں اور ہر بند گویا ایک علیحدہ غزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہی غزل کا سا قافیہ اور ردیف، سب مصروں کا ایک سا وزن، ہر شعر اپنی جگہ پر الگ بھی ہے اور بند کے سارے شعر کسی خیال کی ڈور میں بندھے ہوئے بھی ہیں۔ اس نظم میں پیکر تراشی کے عمدہ نمونے بھی موجود ہیں، اس میں شبہ نہیں کہ شاعری موسیقی سے زیادہ مصوری ہے۔وہ شعر زیادہ دلچسپ اور دلکش ہوتا ہے جس میں شاعر اپنا تجربہ بیان نہ کرے بلکہ جو کچھ اس کی چشم تصور نے دیکھا ہے وہ لفظی پیکر تراشی کے ذریعے دوسروں کو بھی دکھا دے۔ چند اشعار دیکھیں:

    دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
    افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی

    ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے

    تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیاس نظم میں استعارہ اور تشبیہ اور علامات کا حسین برتاؤ ہوا ہے۔ طلوع اسلام سے اس کی بہت ساری مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس حوالے سے دوسرے اور چھٹے بند کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے:

    سرشک چشم مسلم میں ہے نسیاں کا اثر پیدا
    خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

    کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
    یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

    اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
    کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

    اس نظم کے چند علامتی شعر ملاحظہ ہوں:

    نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
    کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

    براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے
    ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

    مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
    وہ کیا تھا زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلمانی

    اس نظم کا موضوع اگرچہ ہنگامی ہے یعنی یہ نظم مخصوص حالات و کیفیات اور ایک مخصوص واقعے یعنی ترک رہنما مصطفی کمال پاشا کی کامیابی اور فتح سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔ لیکن خیالات، حالات میں انقلابات کے باوجود یہ نظم زندہ رہی ہے تو اس لیے کہ عظیم شاعری کی پہچان ہی یہ ہے کہ اس میں ڈھالے افکار و جذبات بے معنی و بے مصرف بھی ہوجائیں اس کے باوجود قارئین کی دلچسپی کا سبب بنے۔ اقبال کی یہ نظم آج بھی بڑے ہی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھی اور سمجھی جاتی ہے یہی ایک شاعر کا فنی کارنامہ ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. جدیدیت کی مختصر ترین تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ یہ اپنے عہد کی زندگی کا سامنا کرنے اور اسے تمام خطرات و امکانات کے ساتھ برتنے کا نام ہے۔ "اپنے عہد کے مسائل یا اپنے عہد کی حسیت کو پیش کرنے کا نام جدیدیت ہے۔" جدیدیت ایک تاریخی دور ہے جو مغربی معاشرے میں نظریات اور گہری تبدیلیوں کا ایک مجموعہ ہے ، جو فلسفہRead more

    جدیدیت کی مختصر ترین تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ یہ اپنے عہد کی زندگی کا سامنا کرنے اور اسے تمام خطرات و امکانات کے ساتھ برتنے کا نام ہے۔

    "اپنے عہد کے مسائل یا اپنے عہد کی حسیت کو پیش کرنے کا نام جدیدیت ہے۔” جدیدیت ایک تاریخی دور ہے جو مغربی معاشرے میں نظریات اور گہری تبدیلیوں کا ایک مجموعہ ہے ، جو فلسفہ ، سائنس ، سیاست اور فن اور عام طور پر زندگی کے طریقوں میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔

    جدیدیت ان تین عظیم ادوار میں سے ایک پر مشتمل ہے جس میں بنی نوع انسان کی تاریخ منقسم ہے: قدیم دور ، قرون وسطی اور جدید دور ، موجودہ عصر حاضر کے علاوہ جدیدیت روایتی طور پر ٹوٹنا کے نظریے سے وابستہ ہے ، کیونکہ اس نے فلسفہ ، سیاسی ، فنکارانہ ، نظریات وغیرہ کے نظریات کے لحاظ سے قرون وسطی کے اثر و رسوخ کے ساتھ تجدید نو کی نمائندگی کی تھی۔ جدیدیت کا آغاز 15 ویں صدی میں ہوا۔

    جدیدیت ایک ایسا مستقل عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے ہر عہد میں ان لوگوں نے جو حقیقی طور پر زندہ رہے ہیں اس عمل میں حصہ لیا ہے۔ انھوں نے فکر و فن کی سطح پرفرسودہ اقدار کے خلاف جنگ کرکے نئی قدروں کی پرورش کی اور عملی زندگی کو نئے سانچوں میں ڈھالا ہے۔

    قاضی سلیم کی نظر میں جدیدیت کی تعریف یہ ہے:
    ’’جدیدیت ایک ادبی رویہ بھی ہے اور ادیبوں کا ایک مسلک بھی ‘‘

    ڈاکٹر عبادت بریلوی نے جدیدیت کی تعریف کے بارے میں اپنے خیالات کا بیان اس طرح پیش کیاہے :
    ’’ جدت کا تصور ادبی تنقید کی اصطلاح میں صرف تاریخ تک محدود نہیں وہ تو ایک زندگی اور اس کے بدلے ہوئے معملات ومسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ ‘‘

    جدیدیت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لطیف الرحمن لکھتے ہیں :
    ’’ جدیدیت لفظ جدید سے مشتق ایک ادبی اصطلاح ہے جس نے ترقی پسند تحریک کے زوال کے بعد اردو میں ایک ہمہ گیر ادبی تحریک کی حیثیت حاصل کی۔ ترقی پسند تحریک کی سرمایہ دارانہ جبر و استحصال کے خلاف ایک اجتمائی بغاوت تھی۔ جدیدیت سماج اور میناکی جبریت کے خلاف ایک باغیانہ رد عمل ہے۔ جدیدیت فرد کی داخلی جلاوطنی، موضوعی بے پناہی کی ترجمانی و تنقید ہے جس کے نتیجے میں فرد تنہائی الجھن، بے گانگی، اجنبیت، اکیلا پن، کلبیت، بوریت، یکسانیت، بے معنویت، مہملیت، جرم، بے خوفی، بے سمتی، بے یقینی، نا اُمیدی، بیتابی، اکتاہٹ، بیزاری اور مفلسی کی کیفیت سے دور چار ہے۔ ان رحجانات کے اعتبار سے جدیدیت فلسفہ وجودیت کی توسیع ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. روایت ثقافتی اثاثوں کا مجموعہ ہے جو معاشرے میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ یہ ان رسم و رواج اور مظاہروں کے بارے میں ہے جو ہر معاشرہ قابل قدر سمجھتا ہے اور ان کو برقرار رکھتا ہے تاکہ وہ نئی نسلوں کو ثقافتی ورثہ کا ایک لازمی حصہ سمجھ کر سیکھیں۔ مثال کے طور پر: ایسٹر میں چاکلیٹ کا انڈا یا کرسمس کے موقع پRead more

    روایت ثقافتی اثاثوں کا مجموعہ ہے جو معاشرے میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ یہ ان رسم و رواج اور مظاہروں کے بارے میں ہے جو ہر معاشرہ قابل قدر سمجھتا ہے اور ان کو برقرار رکھتا ہے تاکہ وہ نئی نسلوں کو ثقافتی ورثہ کا ایک لازمی حصہ سمجھ کر سیکھیں۔

    مثال کے طور پر: ایسٹر میں چاکلیٹ کا انڈا یا کرسمس کے موقع پر نوگٹ کھانا ، اتوار کے روز دوپہر کے کھانے کے لئے پاستا رکھنا یا سوگ کی علامت کے طور پر کالا پہننا ، متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی روایات میں سے کچھ ہیں۔

    لہذا روایت ایک ایسی چیز ہے جو وراثت میں ملی ہے اور یہ شناخت کا حصہ ہے۔ ایک معاشرتی گروپ کا خصوصیت فن ، اس کی موسیقی ، اس کے رقص اور اس کی کہانیوں کے ساتھ ، روایتی ، نیز معدے اور دیگر امور کا بھی ایک حصہ ہے۔

    See less
    • 0