Perfect Urdu Latest Questions

Sajid
  1. ایک انوکھا عجائب گھر سبق میں مصنف نے حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم کے حوالے سے اہم معلومات بیان کی ہیں۔ سبق کا آغاز بچوں کی گفتگو سے ہوتا ہے جہاں سلمان،حنا اور جاوید اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ وہ کونسی جگہ ہے کہ جہاں پر صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی پرانی سے پرانی چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں۔Read more

    ایک انوکھا عجائب گھر سبق میں مصنف نے حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم کے حوالے سے اہم معلومات بیان کی ہیں۔ سبق کا آغاز بچوں کی گفتگو سے ہوتا ہے جہاں سلمان،حنا اور جاوید اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ وہ کونسی جگہ ہے کہ جہاں پر صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی پرانی سے پرانی چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں۔کیونکہ ان کے والد نے امتحان ختم ہونے کے بعد ایسی جگہ لے جانے کا وعدہ کیا تھا جہاں وہ پوری دنیا کی تہذیب کا نظارہ کر سکیں۔

    بچے اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ان کی امی نے انھیں اس جگہ کے بارے میں کچھ نشانیاں بتائیں کہ یہاں چین کے برتن، تبت کی لکڑی کا سامان اور اس طرح کی قیمتی اشیاء موجود ہیں۔اس کے علاوہ قیمتی پتھر،مینا کاری کی اشیاء اور پینٹنگز بھی یہاں موجود ہیں۔ بچوں کو اندازہ ہو گیا کہ وہ لوگ حیدرآباد میں واقع سالار جنگ میوزیم جا رہے ہیں۔جہاں مغلیہ دور حکومت کی اشیاء اور ٹیپو سلطان کی کرسی اور عمامہ بھی موجود ہے۔

    ان کے والد نے ان کو بتایا کہ یہ میوزیم 16 دسمبر1951ء میں پہلے سالار جنگ کی رہائش گاہ دیوان ڈیوڑھی میں قائم کیا گیا تھا۔ ہندوستانی حکومت نے 1961ء میں قانون پاس کر کے اس عجائب گھر کو قومی سطح کے ادارے اور چار منزلہ عمارت میں تبدیل کیا۔بچوں کے پوچھنے پر والد نے بتایا کہ اس میوزیم میں سالار جنگ کی تین پشتوں کا جمع کیا ہوا سامان ہے جسے جمع کرنے میں سالار جنگ سوئم نواب میر یوسف علی خاں نے اہم کردار ادا کیا۔

    میوزیم میں دنیا بھر سے لائی گئی 43000 چیزیں جن کا تعلق الگ فنون سے ہے اور 50000 کتابیں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ جبکہ اس میں سے بہت سا سرمایہ یہاں کے ملازمین لے گئے اور کچھ حصہ منتقلی کے دوران کھو گیا۔ میوزیم میں ہر قسم کی چیزوں کے لیے الگ کمرے اور گیلریاں بنائی گئی ہیں۔

    یہاں پر مغلوں کے استعمال کی نادر اشیاء،ٹیپو سلطان کا عمامہ اور کرسی،سالار جنگ کے خاندان کی تین پشت کا جمع کیا ہوا سامان،سندھ،مصر، میسوپوٹیمیا اور یونان کی تہذیبوں کا سامان،گوتم بدھ کا مجسمہ، مختلف مذاہب کے دیوی دیوتا، کانسی اور لکڑی سے بنی ہوئی مورتیاں،برتن، گھڑیاں اور ہاتھی دانت کا سامان وغیرہ رکھا گیا ہے۔ یہی پر نواب صاحب کے کپڑے کتابیں اور ان کی ضرورت کی اشیاء بھی نمائش پر موجود ہیں۔ بچوں نے بہت دلچسپی سے تمام چیزیں دیکھی اور اس تمام سے بہت لطف اٹھایا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. سناؤں تمھیں بات اک رات کی کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں پڑی ایک بچے کی ان پر نظر پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر چمک دار کیڑا جو بھایا اسے تو ٹوپی میں چھٹ پٹ چھپایا اسے وہ چھم چھم چمکتا ادھر سے ادھر پھرا، کوئی رستہ نہ پایا مگر تو غم گین قیدی نے کی التRead more

    سناؤں تمھیں بات اک رات کی
    کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی
    چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں
    ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں
    پڑی ایک بچے کی ان پر نظر
    پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر
    چمک دار کیڑا جو بھایا اسے
    تو ٹوپی میں چھٹ پٹ چھپایا اسے
    وہ چھم چھم چمکتا ادھر سے ادھر
    پھرا، کوئی رستہ نہ پایا مگر
    تو غم گین قیدی نے کی التجا
    کہ چھوٹے شکاری مجھے کر رہا

    See less
    • 0
Sajid
  1. شاہین نے بچوں کو بڑوں کو سلام نہ کرنے اور رامو کاکا سے ادب سے بات نہ کرنے پر ٹوکا۔

    شاہین نے بچوں کو بڑوں کو سلام نہ کرنے اور رامو کاکا سے ادب سے بات نہ کرنے پر ٹوکا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. اس سبق میں اخلاقیات پر بات چیت کو مکالمے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شاہین کے بھائی اس کے گھر کافی عرصے بعد اور اچانک آتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں۔بچے بھی ماموں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور بات کرنے لگتے ہی ہیں کہ ان کی ماں یعنی شاہین ان کو ڈانٹتی ہے کہ بنا سلام دعا کے ہی شروع ہو گئے ہو۔ شاہین اپنی اRead more

    اس سبق میں اخلاقیات پر بات چیت کو مکالمے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شاہین کے بھائی اس کے گھر کافی عرصے بعد اور اچانک آتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں۔بچے بھی ماموں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور بات کرنے لگتے ہی ہیں کہ ان کی ماں یعنی شاہین ان کو ڈانٹتی ہے کہ بنا سلام دعا کے ہی شروع ہو گئے ہو۔

    شاہین اپنی امی جان سے بھی ملتی ہے اور انھیں بتاتی ہے کہ وہ ان کو بہت یاد کرتی ہے۔ بچے بھی نانی اماں سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور نانی نے نواسے کے لیے بڑی عمر کی دعا کی اور ماں باپ کا کہا ماننے اور دل لگا کر پڑھنے کی نصحیت کی اور یہ کہا کہ تمھیں بھی بڑا ہو کر ماموں کی طرح ڈاکٹر بننا ہے۔اس جے بعد ملازم آ کر بچوں سے ملتا ہے تو بچے اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتے ہیں تو شاہین تب بھی بچوں کو ڈانٹتی ہے کہ بڑوں سے ادب سے پیش آؤ۔

    اس پر ان کا ملازم رامو کاکا رندھے ہوئے گلے کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ بچے ہی تو ان کا کل سرمایہ ہیں اس لیے انھیں کچھ مت بولو۔اسی دوران شاہین کا بڑا بھائی بھی اسے تنگ کرنے لگتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئی ہے دبلی دکھتی ہے اس کا شوہر اس کا خیال نہیں رکھتا وغیرہ۔ شاہین کے بھائی کی بات سن کر بوا بھی اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ واقعی بیمار دکھائی دے رہی ہے۔

    شاہین بوا کو کہتی کہ وہ اچھی بھلی ہے اور جوابا بوا سے ان کے بچوں کی خیریت دریافت کرتی ہے۔ جس پر بوا اپنی بیٹی کا دکھڑا سناتی تو شاہین اسے تسلی دیتی ہے۔کہ آپ اپنی بیٹی کو پاس بلا لیں کہ آپ اچھا خاصا کھاتی پیتی تو ہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور غم نہ کریں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ بہتر کرے گا۔یوں اس سبق میں بات چیت کے آداب اور بنیادی اخلاقیات کے ساتھ رشتوں کی خوبصورتی بھی جھلکتی ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. برسات کے موسم میں بارش کا لطف دیگر تمام موسموں کی بارشوں سے دو بالا ہوتا ہے۔آسمان ہر وقت گھنگھور گھٹاؤں سے اٹا رہتا ہے۔ کبھی بھی کسی بھی وقت جل تھل ہو جاتا ہے۔ پرندے بھی اس موسم میں مست دکھائی دیتے ہیں دوسری جانب سبزے کی بہاریں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ یہ تمام مناظر جہاں ایک جانب انسانی آنکھوں کو تازگیRead more

    برسات کے موسم میں بارش کا لطف دیگر تمام موسموں کی بارشوں سے دو بالا ہوتا ہے۔آسمان ہر وقت گھنگھور گھٹاؤں سے اٹا رہتا ہے۔ کبھی بھی کسی بھی وقت جل تھل ہو جاتا ہے۔ پرندے بھی اس موسم میں مست دکھائی دیتے ہیں دوسری جانب سبزے کی بہاریں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ یہ تمام مناظر جہاں ایک جانب انسانی آنکھوں کو تازگی بخشتے ہیں وہیں دوسری جانب برسات کی مناسبت سے نت نئے اور مزیدار پکوان بھی اس موسم کے لطف کو دوبالا کرتے ہیں۔ مگر اس موسم کا ایک اثر انسانی زندگی پر یہ بھی مرتب ہوتا ہے کہ ہر جانب مسلسل بارش کے باعث کیچڑ اور پھسلن کا راج ہو جاتا ہے۔دوسری طرف وہ مکان یا مکان کے وہ حصے جن کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو یا ان کی مرمت پر توجہ نہ دی جائے تو وہ وہ مسلسل بارش کی وجہ سے دھڑ سے نیچے آ گرتے ہیں۔یہ موسم اگرچہ رحمت تو ہوتا ہے مگر بسا اوقات زحمت بھی بن جاتا ہے کہ آدمی کبھی بھی کہیں بھی پھسلن کا شکار ہو کر اوندھے منھ زمین پہ آ رہتا ہے۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. برسات کا جہان میں لشکر پھسل پڑا بادل بھی ہر طرف سے ہوا پر پھسل پڑا جھڑیوں کا مینہ بھی آکے سراسر پھسل پڑا چھتا کسی کا شور مچا کر پھسل پڑا کوٹھا جھکا، اٹاری گری، در پھسل پڑا

    برسات کا جہان میں لشکر پھسل پڑا
    بادل بھی ہر طرف سے ہوا پر پھسل پڑا
    جھڑیوں کا مینہ بھی آکے سراسر پھسل پڑا
    چھتا کسی کا شور مچا کر پھسل پڑا
    کوٹھا جھکا، اٹاری گری، در پھسل پڑا

    See less
    • 0
Sajid
  1. ناول' وہ نثری قصہ ہے جس میں ہماری زندگی کی تصویر ہوبہو پیش کی گئی ہو۔ ولادت سے موت تک انسان کو جو معاملات پیش آتے ہیں، جس طرح وہ حالات کو یا حالات اسے تبدیل کر دیتے ہیں وہ سب ناول کا موضوع ہے۔ خلاصئہ کلام یہ کہ ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں زندگی کے سارے روپ دیکھے جا سکتے ہیں۔ لفظ "ناول" اطالویRead more

    ناول’ وہ نثری قصہ ہے جس میں ہماری زندگی کی تصویر ہوبہو پیش کی گئی ہو۔ ولادت سے موت تک انسان کو جو معاملات پیش آتے ہیں، جس طرح وہ حالات کو یا حالات اسے تبدیل کر دیتے ہیں وہ سب ناول کا موضوع ہے۔ خلاصئہ کلام یہ کہ ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں زندگی کے سارے روپ دیکھے جا سکتے ہیں۔ لفظ "ناول” اطالوی زبان کا لفظ "ناویلا” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں نیا، عجیب یا انوکھا کے ہیں۔ کلاراریوز کے مطابق:۔ ” ناول اس زمانے کی زندگی اور معاشرت کی سچی تصویر ہے جس زمانے میں وہ لکھا جا ئے”۔ ایچ۔۔ جی۔۔ ویلز کے مطابق:۔ "اچھے ناول کی پہچان حقیقی زندگی کی پیشکش ہے”

    ناول کے اجزائے ترکیبی:

    ناول کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں یعنی وہ کیا چیز یں ہیں جن کا کسی ناول میں پایا جانا ضروری ہے۔ فن کے نقطۂ نظر سے جن چیزوں کا ناول میں پایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہیں۔ قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور نقطۂ نظر۔ اب ان اجزا کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

    قصہ:

    قصہ وہ بنیادی شے ہے جس کے بغیر کوئی ناول وجود میں نہیں آ سکتا۔ کوئی واقعہ ،کوئی حادثہ،کوئی قصہ فن کار کو قلم اُٹھا نے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک ضروری بات اور۔ پڑھنے والے کو یہ قصہ بالکل سچا لگنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ قصہ جتنا جاندار ہوگا قاری کی دلچسپی اس میں اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اب یہ فن کار کی ذمہ داری کہ وہ اس دلچسپی کو برقرار رکھے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کہانی اس طرح آگے بڑھے کہ پڑھنے والا یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ گویا کہانی پن برقرار رہے۔

    پلاٹ :

    پلاٹ قصے کو ترتیب دینے کا نام ہے۔ ایک کامیاب فن کار واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ایسا منطقی تسلسل ہونا چاہیے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ بالکل فطری معلوم ہو۔ واقعات ایک دوسرے سے ہوری طرح پیوست ہوں تو پلاٹ مربوط یا گٹھا ہوا کہلائے گا۔ اور ایسا نہ ہو تو پلاٹ ڈھیلا ڈھیلا کہلائے گا جو ایک خامی ہے۔”امراؤجان ادا” کا پلاٹ گٹھا ہوا اور کسا ہوا ہے جب کہ ” فسانہ آزاد ” کا پلاٹ ڈھیلا ڈھالا ہے۔ ناول میں ایک قصہ ہو تو پلاٹ اکہرا یا سادہ کہلائے گا۔ ایک سے زیادہ ہوں تو مرکب جیسا کہ ” امراؤ جان ادا” میں ہے۔ کچھ دنوں بحث چلی کہ پلاٹ کا ہونا ضروری ہے بھی یا نہیں۔ ہماری زبان کا ناول ” شریف زادہ” بغیر پلاٹ کے واحد ناول ہے۔ لیکن اصلیت یہ ہے کہ پلاٹ کے بغیر کامیاب نال کا تصور ممکن نہیں۔

    کردار نگاری:

    کردار نگاری ناول کا اہم جزو ہے۔ ناول میں جو واقعات پیش آتے ہیں ان کے مرکز کچھ جاندار ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ انسان ہی ہوں۔ حیوانوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ یہ افراد قصہ کردار کہلاتے ہیں۔ یہ جتنے حقیقی یعنی اصل زندگی کے قریب ہوں گے ناول اتنا ہی کامیاب ہو گا۔ کردار دو خانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک پیچیدہ ( راؤنڈ) دوسرے سپاٹ (فلیٹ) ۔۔ انسان حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ جن کرداروں میں ارتقا ہو تا ہے یعنی جو کردار حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں وہ راؤنڈ کہلاتے ہیں۔ جیسے مرزا ہادی رسوا کے امراؤجان ادا اور سلطان مرزا۔ اسی طرح کے کردار جیتے جاگتے کردار کہلاتے ہیں اور ادب کی دنیا میں امر ہو جاتے ہیں۔ جو کردار ارتقا سے محروم رہ جاتے ہیں پورے ناول میں ایک ہی سے رہتے ہیں وہ سپاٹ کہلاتے ہیں۔ نذیر احمد کے "مرزا ظاہر دار بیگ” اور سرشارکے "خوجی” اس کی مثال ہیں۔ یہ دلچسپ ہو سکتے ہیں مگر سچ مچ کے انسانوں سے ملتے جلتے نہیں ہو سکتے۔

    مکالمہ نگاری:

    مکالمہ نگاری پر بھی ناول کی کامیابی اور ناکامی کا بڑی حد تک دارومدار ہوتا ہے۔ ناول کے کردار آپس میں جو بات چیت کرتے ہیں وہ مکالمہ کہلاتی ہے۔ اسی بات چیت کے ذریعے ہم ان کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں اور انہیں کے سہارے قصہ آگے بڑھتا ہے۔ مکالمے کے سلسلے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ مکالمہ غیر ضروری طور پر طویل نہ ہو کہ قاری انہیں پڑھنے میں اکتا جائے۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مکالمہ جس کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس کے حسبِ حال ہو۔

    منظر کشی:

    منظر کشی سے ناول کی دلکشی اور تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ منظر کشی کامیاب ہو تو جھوٹھا قصہ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔” امراؤجان ادا” میں مرزا رسوا نے خانم کے کوٹھے کا نقشہ ایسی کامیابی کے ساتھ کھینچا ہے کہ پورا ماحول ہمارے پیش نظر ہوجاتا ہے۔ عرس ،میلے،نواب سلطان کی کوٹھی کا ذکر ہے تو ایسا کار گر کہ لگتا ہے کہ ہم خود وہاں جا پہنچے ہیں۔ پریم چند کو بھی منظر نگاری میں بڑی مہارت حاصِل ہے۔ شرر اور طبیب کے ناولوں میں یہ کمزوری نمایاں ہے۔

    نقطۂ نظر:

    نقطۂ نظر جسم میں خون کی طرح فن کار کے قلم سے نکلی ہوئی ایک ایک سطر میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ ہر انسان اور خاص طور پر فن کار کائنات اور اس کی ہر شے کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو گویا اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنا نقطۂ نظر واضح کرتا ہے۔ غرض یہ کہ ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نقطۂ نظر کار فرما ہوتا ہے۔ اور اصنف اسی کی خاطر تخلیق کا کرب جھیلتا ہے۔ مولوی نذیر احمد نے ” ابن الوقت” یہ واضح کر نے کے لیے لکھا کہ بے سوچے سمجھے نقالی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔ ان کا ہر ناول اصلاحی نقطۂ نظر کا حامِل ہے۔

     

    حوالہ جات:

     "”اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ–مصنف ڈاکٹر سُنبل نگار

    See less
    • 0
Sajid
  1. ریچھ دن بھر پڑا سوتا رہتا اور شام کے وقت اٹھ کر ستاروں کو چھیڑتا اور ان سے شرارتیں کیا کرتا تھا۔ وہ ننھے ستاروں کو قلابازیاں کھلاتا یا انھیں ان کی اصلی جگی سے ہٹا دیتا تھا۔

    ریچھ دن بھر پڑا سوتا رہتا اور شام کے وقت اٹھ کر ستاروں کو چھیڑتا اور ان سے شرارتیں کیا کرتا تھا۔ وہ ننھے ستاروں کو قلابازیاں کھلاتا یا انھیں ان کی اصلی جگی سے ہٹا دیتا تھا۔

    See less
    • 0
Sajid
  1. بنا سوچے سمجھے اور اپنی ضرورت سے زیادہ اور بلاوجہ خرچ کرنے کو فضول خرچی کہتے ہیں۔

    بنا سوچے سمجھے اور اپنی ضرورت سے زیادہ اور بلاوجہ خرچ کرنے کو فضول خرچی کہتے ہیں۔

    See less
    • 0